دوستو ! آج کے کالم میں ہم ذکر کریں گے، وینزویلا کے سابق صدر ہوگوشاویز کا۔ ہوگو شاویز 28 جولائی 1954 کو وینزویلا کے قصبے سبانیتا میں پیدا ہوئے، ان کے والدین درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ البتہ ہوگو شاویز نے پرورش اپنی دادی کے زیر سایہ پائی، ان کی دادی ایک کسان خاتون تھیں۔ اسی باعث ہوگو شاویز خود کو کسان کہا کرتے تھے۔
اب اگر ذکرکریں، ان کے حصول تعلیم کے مراحل کا تو ہوگو شاویز نے ابتدائی تعلیم جولین پینو اسکول سے حاصل کی جب کہ مزید حصول تعلیم کے لیے باریناس کے ڈینیل لورینواوٹری اسکول میں داخلہ لے لیا۔ البتہ 1971 میں وینزویلین اکیڈمی آف ملٹری سائنس میں داخلہ لیا جہاں سے انھوں نے 1975 میں 21 برس کی عمر میں لیفٹیننٹ کے عہدے کے ساتھ ملٹری آرٹس اینڈ سائنس کی سند حاصل کی۔ یہ ضرور ہوا کہ فوج کی ملازمت کے دوران شاویز کو کراکس میں واقع سائمن بولیور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کی سند حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ہوگو شاویزکی زندگی پر تین واقعات نے گہرے اثرات مرتب کیے، ان تین واقعات کو ہوگو شاویز نے یوں بیان کیا ہے کہ اول میرا چھوٹا بھائی اینسو جوکہ ایک خوبصورت و پیارا بچہ اور ہمہ وقت مسکراتا رہتا تھا وہ سخت بیمار ہوا لیکن مناسب علاج نہ ہونے کے باعث وفات پا گیا، یہ ضرور تھا کہ اگر میرے بھائی کو مناسب علاج کی سہولت مل جاتی تو شاید وہ صحت یاب ہو کر طویل عمر پاتا، گویا ہوگو شاویز کا یہ خیال تھا کہ ان کا چھوٹا بھائی غربت کی نذر ہو گیا، یوں بھی وہ بہت حساس مزاج کے مالک تھے۔
دوم۔ یہ ہوا کہ ہوگو شاویزکا ایک بچپن کا دوست تھا، جس کا نام جارج تھا وہ ایک یتیم بچہ تھا۔ اسی باعث اس کو چھوٹی عمر میں اپنی کفالت کی ذمے داریاں خود پوری کرنا پڑیں جب وہ سخت محنت کرتا تو ہوگو شاویز اسے دیکھ کر افسردہ ہو جاتے۔ سوم یہ واقعہ ہوا کہ 1975 میں جب ہوگو شاویز نیا نیا فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ 21 برس عمر تھی کہ ان کو دیگر فوجیوں کے ساتھ کمیونسٹ انقلابیوں کی ایک تحریک کو کچلنے کے لیے روانہ کیا گیا۔ حالات زیادہ خراب تھے چنانچہ فوجیوں کو گولیاں چلانے کا حکم دیا گیا جب فوجی انقلابیوں پر گولیاں برسا رہے تھے تو ہوگو شاویز نے جب دیکھا کہ انقلابیوں میں غریب کسان و نو عمر لڑکے بھی شامل تھے جوکہ گولیوں کا نشانہ بن رہے تھے تو ہوگو شاویز بے حد بے چین ہوئے اور سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ان دونوں میں کون غلط ہے اور کون ٹھیک ہے کیونکہ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران نوجوان فوجی بھی مارے گئے تھے۔
یہ تھے تین واقعات جن کے رونما ہونے سے ہوگو شاویز کی فکری سوچ تبدیل ہو گئی پھر ہوگو شاویز یہ بھی سوچتے کہ تیل جیسی دولت سے مالا مال وینزویلا میں اس قدر غربت پوری خوراک حاصل نہ ہونے کے باعث کمزور لوگ و معصوم بچے آخر کیوں؟ یہی وجوہات تھیں جن کے باعث انھوں نے پولیٹیکل سائنس کے مضمون کو پڑھنے کا فیصلہ کیا جب کہ ان کے رابطے ترقی پسند لوگوں سے بھی قائم ہو چکے تھے اب ہوگو شاویز پر انسان دوست ترقی پسند نظریات کے در بھی کھلتے جا رہے تھے، بالخصوص سائمن بولیوار ان کا ہیرو تھا، وہی سائمن بولیوار جس نے 19 ویں صدی میں ہسپانوی سامراج کے خلاف وینزویلا بولیویا، کولمبیا اور پیرو کی آزادی کے لیے انتھک عملی جدوجہد کی تھی۔ البتہ سائمن بولیوار لاطینی امریکا کی آزادی اور وہاں کے باشندوں کے اتحاد کے خواب اپنے ساتھ لے کر دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن ہسپانوی سامراج تو رخصت ہو گیا مگر اس کی جگہ شمالی امریکا سامراج نے لے لی یہ ضرور تھا کہ وینزویلا، کولمبیا، پیرو و بولیویا کے باشندوں نے شمالی امریکا سامراج کو یانکی سامراج کا لقب دے دیا تھا، گویا یانکی سامراج ان ممالک کے ساتھ ساتھ اب پوری دنیا کے لیے ایک نفرت کی علامت بن چکا ہے۔
بہرکیف 1980 تک کیفیت یہ تھی کہ وینز ویلا عالمی مالیاتی اداروں کی مکمل گرفت میں آ چکا تھا ملک میں مہنگائی، کرپشن، معاشی و سماجی بدحالی پھیلی تو 27 فروری 1989 کو عوام سڑکوں پر آگئے، تمام ملک میں زبردست احتجاج شروع ہوگیا۔ صدرکارلوس آندرے پریز نے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا، نتیجہ سیکڑوں لوگ جاں بحق ہو گئے، البتہ ہوگو شاویز نے گولی چلانے سے انکارکر دیا ، وقتی طور پر حالات حکومت کے کنٹرول میں آ گئے، مگر عوام کے سینوں میں غیظ و غضب کی چنگاری موجود تھی۔ ہوگوشاویز نے فوج کے کافی لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔ یہ فوجی حکومتی نظام سے بے زار تھے، چنانچہ 4 فروری 1992 کو ہوگو شاویز کی قیادت میں 5 فوجی یونٹ روانہ ہوئے۔ مقصد ملک کے تمام اہم مقامات پر قبضہ کرنا تھا، یہ بغاوت کامیاب نہ ہو سکی، البتہ ہوگو شاویز کو ٹیلی وژن پر موقع دیا گیا کہ وہ لوگوں سے اپیل کریں کہ لوگ حکومت کے خلاف لڑائی ختم کر دیں لیکن ہوگو شاویز نے موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ عارضی ناکامی ہے، اس خطاب کے بعد وہ عوام کے ہیرو بن گئے۔ البتہ ان کو وینزویلا کی بدنام زمانہ جیل میں قید کر دیا گیا۔
1993 میں صدر کارلوس آندرے پریز کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا گیا، ملک میں نئے انتخابات ہوئے۔ منتخب صدر رافیل کالڈیرا نے ہوگوشاویز کو رہا کر دیا، یہ رہائی 1994 کو عمل میں آئی۔ 1994 ہی میں (MBR200) مومنتو بولیو نوریوشنو200 گروپ قائم کیا، بعدازاں ففتھ ری پبلک مومنٹ کے نام کے ساتھ1998 میں انتخابات میں حصہ لیا اور سامراج مخالف تقاریر و شعلہ بیانی کے باعث ہوگو شاویز 56 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے اور 2 فروری 1999 کو ہوگو شاویز نے وینزویلا کے صدر کا حلف اٹھا لیا۔ انھوں نے ملک کو نیا آئین دیا، ملک کا نام تبدیل کرکے بولیوارین ری پبلک آف وینزویلا رکھا۔ امریکی سامراج سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں تمہاری کٹھ پتلی نہیں بنوں گا، آزاد خارجہ حکمت عملی اپنائی، روس، چین، کیوبا سے قریبی تعلقات قائم کیے۔
پلان 2000 کے تحت بے گھر افراد کے لیے گھر تعمیر کروائے، شاہراہوں کے جال بچھا دیے، وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے ویکسین تیارکروائی، زمینداروں سے ٹیکس وصولی کا نظام وضع کیا، یونیورسٹی تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کیا، تیل کی صنعتوں کی نجکاری روک دی، تیل کی پیداوار سے حاصل دولت ملک کے عوام پر خرچ ہو رہی تھی، البتہ 11 اپریل 2002 کو ان کی حکومت کے خلاف بغاوت ہو گئی مگر ہوگو شاویز کی حامی فوج نے دوسرے ہی روز اس بغاوت کو کچل دیا اور ہوگو شاویز حکومت بحال کر دی۔ وہ تین بار ملک کے صدر منتخب ہوئے البتہ جب چوتھی بار وہ اکتوبر 2012 کے انتخابات میں کامیاب تو ہو گئے مگر حلف اٹھانے سے قبل ہی وہ جہان فانی سے کوچ کر گئے، وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے، البتہ ان کی وفات کے بعد امریکی سامراج نے ان کے ملک کے تیل کے ذخائر پر حکمت عملی کے تحت قبضہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور آج امریکا نے کھلم کھلا جارحیت کرکے وینزویلا میں تیل کی دولت پر مکمل قبضہ کر لیا ہے، البتہ ہوگوشاویز اگر زندہ ہوتے تو امریکی جارحیت ناممکن تھی۔ بہرکیف 5 مارچ2026 کو ان کی 12 ویں برسی تھی، بلاشبہ وہ ایک عظیم لیڈر تھے۔