سیاسی جماعتوں میں جمہوریت

تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے جس میں فیصلے جمہوری طور پرکیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی میں مکمل جمہوریت ہے۔


[email protected]

الیکشن کمیشن کی طرف سے قانونی طور پر منتخب تسلیم نہ کیے جانے والے چیئرمین بیرسٹرگوہر خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے جس میں فیصلے جمہوری طور پرکیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی میں مکمل جمہوریت ہے۔

بیرسٹرگوہرکو بانی نے اپنی غیر موجودگی میں پی ٹی آئی کا چیئرمین نامزد کیا تھا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پی ٹی آئی نے پشاور کے قریب ایک الیکشن کرایا تھا جو حقیقی طور پر جمہوری الیکشن نہیں تھا بلکہ بانی کے فیصلے کی توثیق کے لیے پارٹی رہنماؤں کا اجلاس تھا جس کے لیے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اجلاس میں بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا مگر الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر کی چیئرمین شپ تسلیم نہیں کرتا کیونکہ پارٹی کی طرف سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ چیئرمین کا انتخاب بلامقابلہ ہوا مگر دو سال گزرنے کے بعد بھی پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق دوبارہ چیئرمین کا الیکشن نہیں کرایا اور الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا مذکورہ الیکشن تسلیم نہیں کرتا، مگر پی ٹی آئی اپنے بانی کے نامزد گوہر خان کو ہی چیئرمین تسلیم کرتی ہے اور پارٹی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج بھی نہیں کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری کے عہدے کے لیے بانی نے ہی ایک غیر سیاسی شخصیت سلمان اکرم راجہ کو نامزد کیا تھا جن کا پارٹی نے انتخاب نہیں کیا تھا۔

ویسے تو ملک میں درجنوں سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں جن میں چند ایک کے سوا بے مقصد رجسٹرڈ پارٹیاں کبھی اپنا ایک رکن صوبائی اسمبلی بھی منتخب نہیں کرا سکیں مگر چند افراد پر مشتمل ان تانگہ پارٹیوں کا بوجھ ملک پر مسلط ہے اور یہ نام نہاد پارٹیاں دکھاؤے کے لیے الیکشن بھی لڑتی ہیں اور انتخابی نشان بھی لیتی ہیں جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپر پر ان رجسٹرڈ پارٹیوں کے انتخابی نشان بھی چھاپنے پڑتے ہیں جس سے بیلٹ پیپر چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے اور بے شمار پارٹی امیدواروں کے نام و انتخابی نشانوں میں بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کے انتخابی نشان ڈھونڈنا ووٹروں کے لیے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ووٹ مسترد ہوتے اور بڑی پارٹی کے لاکھوں ووٹ بھی ضایع ہوتے ہیں مگر ملک میں اس کو جمہوریت کہا جاتا ہے اور درجن ووٹ بھی نہ لینے والی پارٹی کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر چھاپنا الیکشن کمیشن کا قانون ہے جب کہ لاتعداد آزاد امیدوار بھی الیکشن لڑتے ہیں جس کی وجہ سے انتخابی نشان کم پڑ جاتے ہیں اور بے شمار انتخابی نشان ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور ووٹ ضایع ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی میں بھی ایک جیسی ہی جمہوریت ہے، جہاں ایک جیسے ہی الیکشن ہوتے ہیں، سربراہی کا تو مقابلہ ہی نہیں ہوتا وہ تو ہر بار بلا مقابلہ ہی منتخب ہو جاتا ہے اور پھر اسی کی مرضی کے دوسرے عہدیدار منتخب قرار پاتے ہیں مگر یہ پارٹی الیکشن اعلانیہ پروگرام اور پارٹی طریقہ کارکے مطابق بڑے شہروں میں ہوتے ہیں مگر چیئرمین کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کا الیکشن خانہ پری کے لیے شہرکی بجائے گاؤں میں ہوا، جسے الیکشن کمیشن نے تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ ملک میں جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جہاں عہدوں کے امیدوار خود امیدوار نہیں بنتے بلکہ جماعت اپنے طریقے کار کے تحت اپنا امیر منتخب کرتی ہے جہاں پہلے سے کوئی نامزدگی نہیں ہوتی۔

بانی پی ٹی آئی نے اقتدار سے قبل اپنی پارٹی میں انتخابات کرائے تھے، جس کے نتائج دیکھ کر خود بانی نے نتائج تسلیم نہیں کیے تھے اور پی ٹی آئی میں منصفانہ الیکشن کرانے کی غلطی پھر انھوں نے نہیں کی اور الیکشن کی بجائے نامزدگیاں ہی ہوتی آئی ہیں۔ پی ٹی آئی میں گوہر خان نے جس جمہوریت کی بات کی ویسی ہی جمہوریت دیگر بڑی پارٹیوں میں بھی رائج ہے مگر پی ٹی آئی ملک کی واحد پارٹی ہے جس کے اسیر بانی کو اپنے پارٹی رہنماؤں پر اعتماد نہیں اور اس لیے انھوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر بھی اپنی پارٹی سے نہیں لیا بلکہ پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے اپنی اپنی پارٹی کے اکلوتے رکن محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصرکو ہی قابل سمجھا اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو نظرانداز کر کے اپوزیشن لیڈر دوسری پارٹیوں کے سربراہوں کو بنوایا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی جمہوریت نہیں بلکہ بانی کی شخصی حکمرانی ہے اور اپنی مرضی سے ہی نامزدگیوں پر یقین رکھتے ہیں اور پارٹی میں بھی بانی کا ہر فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے اور پارٹی میں غیر جمہوری فیصلہ تسلیم نہ کرنے والا کوئی اکبر ایس بابر جیسا اصول پرست رہنما موجود نہیں بلکہ سب ’’یس مین‘‘ ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ پارٹی میں اتحاد نہیں بلکہ بہت زیادہ گروپنگ ہے مگر سب بانی کو ہی سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔ بانی کی پارٹی میں اتنی مضبوط گرفت ہے کہ وہ اپنے آمرانہ من مانے فیصلوں سے اپنی پنجاب اور کے پی کی حکومتیں ختم کرا دیتے ہیں اور جیل میں رہ کر کے پی کا وزیر اعلیٰ تبدیل کرا دیتے ہیں، پی ٹی آئی میں جو ہو رہا ہے اس جیسی مثال کسی اور پارٹی میں موجود نہیں۔ ویسے ہر پارٹی کا سربراہ پارٹی میں آمر ہوتا ہے صرف پیپلز پارٹی میں دو سربراہ ہیں اور دونوں ہی کی پارٹی میں چلتی ہے کیونکہ دونوں باپ بیٹے ہیں ، مگر پی ٹی آئی واحد پارٹی ہے جہاں بانی کا ہر فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے اور دوسری بڑی پارٹیوں کا بھی حال مختلف نہیں اور پارٹی سربراہ کا ہر فیصلہ ہی جمہوریت کہلاتا ہے۔

مقبول خبریں