ڈونلڈ ٹرمپ: سابق امریکی صدور کے نقوشِ قدم پر !

گزرے 9 دنوں میں ایک ہزار سے زائد ایرانی بے گناہ عوام بھی شہید کیے جا چکے ہیں


[email protected]

آج 9 مارچ2026ہے اور آج سے 9دن قبل اسرائیل و امریکا کی یہودی و نصرانی دونوں طاقتوں اور مملکتوں نے مل کر ایک اسلامی مملکت، اسلامی جمہوریہ ایران ، پر وحشت انگیز اور خونریز حملوں کا آغاز کیا تھا۔

یہ صہیونی و مسیحی حملے اُس وقت کیے گئے جب عمان کی ثالثی میں ایرانی و امریکی سفارت کاروں کے درمیان مسئلے اور تنازعے کے حل کے لیے مکالمہ جاری تھا۔

اگر ہم عمانی وزیر خارجہ ( بدر البو سعیدی) کے بیان پر یقین کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ بِلا شبہ عمان میں فریقین کے درمیان مصالحت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی کہ اسرائیل و امریکا نے ، عالمی سفارتی اسالیب توڑتے ہُوئے ، ایران پر انتہائی وحشتناک حملہ کر دیا ۔

دُنیا دَنگ رہ گئی اور اب تک دَنگ ہے ۔ اِن گزرے 9ایام کے دوران ایران پر حملہ آور دونوں اسلام دشمن قوتیں مل کر ایران کے رہبرِ اعلیٰ ، آئیت اللہ علی خامنہ ای، کو شہید کر چکی ہیں۔

اِن کے تباہ کن حملے میں خامنہ ای صاحب شہید کی اہلیہ محترمہ(منصورہ خجستہ ) بھی شہید ہُوئیں ، اُن کی بہو بھی ، ایک نواسی اور پوتا بھی ۔ ایرانی حکومت، ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کے کئی سرکردہ افراد بھی شہید کیے جا چکے ہیں۔

گزرے 9 دنوں میں ایک ہزار سے زائد ایرانی بے گناہ عوام بھی شہید کیے جا چکے ہیں ۔ زخمیوں کی تعداد لاتعداد ہے۔ مگر ایرانی شہر (مناب) کے ایک گرلز اسکول پر امریکیوں و اسرائیلیوں نے بم مار کر جس بہیمیت سے ڈیڑھ سو سے زائد معصوم بچیوں کو شہید کیا ہے، اِس خبر اور منظر نے ہم سب کا دل لہو لہو کررکھا ہے ۔

جس سنگدل صہیونی اسرائیل نے(اپنے سرپرستِ اعلیٰ امریکی اسلحے سے) غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں کو شہید کیا ہو، اُسے بھلا ایران کی چند سو بے گناہ شہید بچیوں کی کیا پروا ہوگی؟ ڈیڑھ سو سے زائد شہید کی جانی والی طلبا بچیوں کی عمریں مبینہ طور پر سات سے بارہ سال تک تھیں ۔

مذکورہ شہید ایرانی بچیوں کی ڈیڑھ سو سے زائد کھودی جانی والی قبروں کا فضائی فوٹو لیا گیا ہے تو پتھر دل بھی پانی ہو گئے ہیں ۔ مگر ایران اب تک صہیونی و نصرانی حملہ آور قوتوں کے سامنے مغلوب ہُوا ہے نہ سرنگوں ۔

وہ مقدور بھر جوابی حملے کر رہا ہے ۔ اُس کے ہلاکت خیز میزائل تل ابیب پر بھی برس رہے ہیں اور علاقائی امریکی عسکری اہداف پر بھی ۔ عرب ممالک بھی شدید پریشان ہیں ۔

اب نوبت ایں جا رسید کہ اسرائیل و امریکا کے قریبی عرب دوست ملک (یو اے ای) کے ایک ارب پتی تاجر ( خلف الحبوط) نے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کے نام خط لکھ مارا ہے کہ ’’جناب کو یک طرفہ طور پر کس نے یہ اتھارٹی دی ہے کہ آپ مشرقِ وسطیٰ کا امن تہ و بالا کر دیں؟۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ تنہا اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں نے صرف مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں ہی کو بڑے بحرانوں میں مبتلا نہیں کیا ہے ، بلکہ تقریباً ساری دُنیا ہی اِس کی ہلاکت خیز لپیٹ میں آچکی ہے ۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمزکے بند کیے جانے پر عرب ممالک میں خاص طور پر خوراک کا بھی زبردست بحران پیدا ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کے مسدود کیے جانے پر بھارت ، جاپان اور چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی تیل و گیس کے لالے پڑ چکے ہیں۔

7مارچ کی نصف شب کو حکومت کے تین وزرا نے اکٹھے ٹی وی پر آکر جس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55روپے فی لٹر اضافے کا ظالمانہ اعلان کیا، اِس نے پاکستانی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

حکومتی وزیروں ،مشیروں اور اعلیٰ مراعات یافتہ سرکاری اشرافیہ کو مگر کوئی فرق نہیں پڑا۔حکومت پِسے عوام سے قربانی مانگ رہی ہے ، مگر خود حکمران طبقہ اپنی بھاری بھر کم مراعات کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

ہر قسم کے سرکاری افسران مفت ملنے والے پٹرول میں ایک لٹر بھی کم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اُدھر خام تیل کی عالمی منڈی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ساتھ ہی قطری وزیر توانائی ( سہیل محمد المزروعی) کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ’’ حالات یہی رہے تو خام تیل150ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتا ہے‘‘ ۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان میں مزید مہنگائی کا نیا پریشان کن طوفان آنے والا ہے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو مل کر دُنیا کے لیے سرکش شیطان بن گئے ہیں۔ یہ حقیقی Exis of Evilبھی ہیں اور حزب الشیطان بھی ۔لاریب امریکا کی ہر حکومت فی نفسہ شیطان کی نمایندہ ہی ثابت ہُوئی ہے۔

امریکی شیطانی طاقتوں نے ساری دُنیا کو اپنی شیطنت میں جکڑ رکھا ہے اور نجات کی کوئی راہ نہیں مل رہی ۔ تقریباً ہر امریکی صدر نے ہر اُس مسلمان سربراہِ حکومت کا سر قلم کیا ہے جس نے امریکی طاغوت و طغیان کے سامنے سر اُٹھانے کی جرأت و جسارت کی۔

مارچ2026 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ، آئت اللہ خامنہ ای، نے امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے مبینہ ’’احکامات‘‘ کی تعمیل سے انکار کیا تو اِسے ’’بغاوت‘‘ قرار دے کر ٹرمپ نے خامنہ ای صاحب کو شہید کر دیا۔

خامنہ ای صاحب نے سر تو دے دیا ہے ، لیکن امریکی سامراج کے غاصب و ظالم ہاتھوں میں ہاتھ نہیں دیے ۔ تو کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو جدید زمانے کا یزید کہا جا سکتا ہے ؟

موجودہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، نے 2026 میں ایرانی روحانی رہنما و سپریم لیڈر کے ساتھ وہی اور ویسا ہی وحشیانہ سلوک کیا ہے جیسا اُن کے ایک پیش رَو امریکی صدر( جارج ڈبلیو بش) نے دسمبر2006کو عراقی صدر ، صدام حسین ، کے ساتھ سلوک کیا تھا ۔

صدام حسین پر سابق امریکی صدر ، جارج ڈبلیو بش، نے جھوٹا الزام عائد کیا تھا کہ عراقی صدر کے پاس انتہائی تباہ کن ہتھیار (WMD) جمع ہو چکے ہیں ، اس لیے اُن کا اور اُن کی حکومت کا خاتمہ کرنا ضروری ہے ؛ چنانچہ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ عراق پر بلِااشتعال حملہ کر دیا اور عراقی صدر ، صدام حسین، کی حکومت بھی ختم کر دی اور صدام حسین کو اُن کے دونوں بیٹوں سمیت مار ڈالا ۔

صدام حسین کو تو پھانسی دی گئی تھی ، جب کہ اُن کے دونوں صاحبزادگان ( اودائے حسین اور قوصائے حسین ) کو بغداد کے صدارتی محل میں خود قابض و حملہ آور امریکی فوجیوں نے گولیاں ماری تھیں۔

اِس سے پہلے اسرائیل نے (امریکی اشیرواد سے) جون1981 میں، جنگی طیاروں سے، عراق کا ایٹمی سینٹر بھی تباہ کر ڈالا تھا ، حالانکہ وہاں نہ کوئی ایٹم بم بن رہا تھا اورنہ ہی وہاں کوئی یورینیم کی اعلیٰ ترین افزودگی ہو رہی تھی ۔

جوہری ہتھیار بنانے کے ویسے ہی جھوٹے الزام اب امریکا و اسرائیل نے ایران پر عائد کیے تھے ۔ اصل خطرہ مگر صہیونی اسرائیل کو دُور مار مہلک ایرانی میزائلوں سے تھا ۔ یہی ہلاکت خیز ایرانی میزائل اب حملہ آور اسرائیل و امریکا کی جان کو اٹک گئے ہیں ۔

واقعہ یہ ہے کہ امریکی تخت پر ہاتھی ( ری پبلکن) بیٹھ جائیں یا گدھے( ڈیموکریٹک)، دونوں ہی عالمِ اسلام میں سر کشیدہ و آزاد منش حکمرانوں کے مخالف اور معاند ہیں ۔

لیبیا کے معروف حکمران ، کرنل معمر قذافی، اور اُن کے خاندان کے ساتھ بھی امریکی صدور نے جو بد ترین سلوک کیا تھا، یہ ہم ابھی نہیں بھولے ۔

پہلے گدھے کے نشان والے ڈیمو کریٹک امریکی صدر ( ڈونلڈ ریگن) نے کرنل قذافی کو سبق سکھانے کے لیے 1996 میںلیبیا پر ، بغیر کسی وجہ کے، بمباری کی اور قذافی کی بیٹی(حنا ) کو مار ڈالا ۔

پھر قذافی کے ایٹمی پروگرام کو یوں ختم کیا کہ قذافی نے امریکی دباؤ برداشت نہ کرتے ہُوئے خود اپنے ایٹمی اثاثے امریکا کے حوالے کر دیے ۔

پھر بھی امریکی بغض اور نفرت کم نہ ہُوئی ؛ چنانچہ دُنیا نے دیکھا کہ امریکا نے لیبیا میں ایسے ابتر سیاسی و معاشی حالات پیدا کیے کہ اکتوبر2011میں قذافی کی حکومت اور اُن کی فیملی کا شیرازہ بکھر گیا ۔

اور امریکی صدر ، باراک اوباما ، کے دَور میں خود بھی کرنل معمر قذافی غنڈوں کے ہاتھوں ایک ویرانے میں قتل کر دیے گئے ۔

بے لگام امریکا کی تباہ کن اور لا متناہی یلغاروں کے پیشِ نظر عالمِ اسلام بجا طور پر پریشان ہے : آئے ہے بے کسیِ عشق پہ رونا غالب/ کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد؟؟

مقبول خبریں