بلوچستان میں پولیس نے مشترکہ آپریشن میں مختلف جرائم میں ملوث 718 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں 111 منشیات فروش بھی شامل ہیں جبکہ 10 مغوی بھی بازیاب ہوئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی قیادت میں صوبائی پولیس نے جرائم کے خلاف ایک زبردست جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور ایک ہی دن میں منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی ہے۔
10 مارچ 2026 کو جاری اس خصوصی مہم کے تحت کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں جرائم پیشہ گروہوں پر پولیس آسمانی بجلی کی طرح گر پڑی ہے۔
بلوچستان پولیس کے ترجمان نے اسے "جرائم کی جڑیں کاٹنے کی مہم" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ آپریشنز منشیات فروشوں، اشتہاری ملزمان، مفرور مجرموں اور سنگین وارداتوں میں ملوث عناصر کیخلاف ہے اور صوبے کے 7 اضلاع میں ٹارگٹڈ آپریشنز کے نتیجے میں پولیس نے ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا ہے۔
ان میں سے 295 مفرور مطلوب اور 402 اشتہاری شامل ہیں، جبکہ مختلف جرائم جیسے ڈکیتی، قتل اور اغوا میں ملوث 718 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائیاں رات کی تاریکی میں بھی جاری ہیں اور پولیس کی ٹیمیں عوام کے تحفظ کے لیے چوکس ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ بلوچستان کے ہر شہری کو خوف سے آزاد ماحول ملے۔
اس مہم کی دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتار ملزمان سے نہ صرف اسلحہ کا انبار برآمد ہوا بلکہ مغویوں کی بازیابی بھی ایک ڈرامائی کہانی کی طرح سامنے آئی ہے۔
پولیس نے مختلف کارروائیوں میں ملزمان سے 122 پسٹل اور ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین قبضے میں لیے ہیں۔ اس کے علاوہ، 10 مغوی افراد کو جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے آزاد کرایا گیا ہے، جو خاندانوں کے لیے خوشی کی لہر لے کر آیا ہے، اس کے علاوہ مسروقہ مال کی برآمدگی میں بھی کامیابی ملی، جہاں 5 چوری کی گاڑیاں اور 39 موٹر سائیکلیں واپس حاصل کی گئیں۔
ترجمان کے مطابق یہ برآمدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پولیس کی خفیہ معلومات اور تیز رفتار کارروائیوں نے جرائم کے نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے۔
منشیات کے خلاف جنگ میں بھی پولیس نے کوئی رعایت نہیں کی اور 111 منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کرلیے جبکہ ان سے برآمد ہونے والی منشیات کی مقدار حیران کن ہے۔
برآمد منشیات میں 743.678 کلوگرام چرس، 11.630 کلوگرام آئس اور شیشہ، اور 10.665 کلوگرام افیون شامل ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ "یہ منشیات نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا ہتھیار تھیں، لیکن اب یہ ہمارے قبضے میں ہیں بلوچستان پولیس کی یہ مہم نہ صرف جرائم کی شرح کو گرائے گی بلکہ عوام میں امید کی کرن بھی جگائے گی۔
آئی جی محمد طاہر کی ہدایات پر یہ آپریشنز مزید شدت اختیار کریں گے، اور عوام سے تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو جرائم کے خلاف جدوجہد کی علامت بنے گی۔