کرائے کیلئے استعمال شدہ سکّہ دو ہزار برس پُرانا نکلا

یہ سکّہ دراصل فونیقی تہذیب سے وابستہ کارتھی جینینز کا ہے: محققین


ویب ڈیسک March 11, 2026

1950 کی دہائی میں لیڈز میں بس کا کرایہ ادا کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا ایک عجیب و غریب سکّہ دراصل دو ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم تہذیب سے تعلق رکھنے والا نکلا۔

یہ سکّہ کئی دہائیاں قبل ایک مقامی بس ڈرائیور کو کرائے کی مد میں دیا گیا تھا، بعد ازاں یہ جیمز ایڈورڈز کے پاس پہنچ گیا جو لیڈز سٹی ٹرانسپورٹ میں چیف کیشیئر رہ چکے تھے۔ ان کا کام دن بھر کرائے کو جمع کرنا اور دن کے اختتام پر ان کی گنتی کرنا تھا۔

چونکہ یہ سکّہ رائج نہیں تھا اور خرچ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لیے مسٹر ایڈورڈز اسے گھر لے گئے اور اپنے کم عمر پوتے پیٹر کو تحفے میں دے دیا۔ پیٹر نے اس قدیم سکے کو ایک چھوٹے سے لکڑی کے صندوق میں سنبھال کر رکھا، جہاں یہ ستر برس سے زائد عرصے تک محفوظ رہا۔

اب لیڈز یونیورسٹی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ یہ سکّہ دراصل فونیقی تہذیب سے وابستہ کارتھی جینینز کا ہے اور پہلی صدی قبل مسیح میں ہسپانوی شہر قادِز میں ڈھالا گیا تھا۔

77 سالہ پیٹر کے مطابق ان کے دادا کو اکثر ایسے سکّے مل جاتے تھے جو برطانوی نہیں ہوتے تھے۔ وہ انہیں الگ رکھ دیتے تھے، اور جب بھی پیٹر ان کے گھر جاتے تو وہ ان میں سے چند انہیں دے دیا کرتے تھے۔

مقبول خبریں