آٹھ مارچ ، غور و فکرکا دن

عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔


زاہدہ حنا March 11, 2026

دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بظاہر خوشی، یکجہتی اور عورتوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن سمجھا جاتا ہے مگر اگر تاریخ کے اوراق کھولے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کے پیچھے خوشی سے زیادہ درد مزاحمت اور قربانی کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ عورت کی آزادی کا یہ سفرکسی ایک لمحے میں شروع نہیں ہوا بلکہ یہ صدیوں کی ناانصافیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب صنعتی انقلاب آیا تو دنیا کے بڑے شہروں میں کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلنے لگیں، تب ان کارخانوں میں ہزاروں عورتیں بھی مزدوری کرنے لگیں۔ ان عورتوں کی زندگی نہایت سخت تھی۔ انھیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی تھی بارہ بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا اورکام کی جگہوں پر کسی قسم کے تحفظ کا تصور بھی موجود نہ تھا۔ نیویارک اور یورپ کے کئی صنعتی شہروں میں عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ 1908 میں نیویارک کی ہزاروں مزدور عورتوں نے سڑکوں پر نکل کر بہتر اجرت کم اوقاتِ کار اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج دراصل ایک بڑی عالمی تحریک کی ابتدا تھی۔

1910 میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ممالک کی خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ اسی کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو یاد رکھنے کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو بڑی پذیرائی ملی اور جلد ہی یورپ کے کئی ممالک میں یہ دن منایا جانے لگا۔ چند ہی برسوں بعد روس میں یہ دن ایک تاریخی موڑ کا سبب بن گیا۔

1917 میں روس کی خواتین مزدوروں نے پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور بھوک کے خلاف روٹی اور امن کے نعرے کے ساتھ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج بعد میں ایک بڑے عوامی انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں روس میں نئی حکومت قائم ہوئی اور اس حکومت نے آٹھ مارچ کو خواتین کے دن کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد میں یہ دن مزدور تحریکوں اور ترقی پسند حلقوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتا گیا یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اسے عالمی دن کے طور پر تسلیم کر لیا۔

عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔ اسے جائیداد سمجھا گیا اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں رہے اور اس کی زندگی اکثرگھر کی چار دیواری میں قید رہی۔ عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا۔ اسے سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور اس کی محنت کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں ہوں یا کارخانوں میں مزدوری کرنے والی خواتین ان کی محنت ہمیشہ معیشت کی بنیاد رہی مگر ان کے حصے میں عزت اور انصاف کم ہی آیا۔ بیسویں صدی میں جب عورتوں نے تعلیم اور شعور حاصل کرنا شروع کیا تو انھوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اس آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی۔ کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کے باوجود عورتوں کی جدوجہد جاری رہی۔

آج اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عورتوں کو قانونی حقوق حاصل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی شکلیں اب بھی موجود ہیں۔ گھریلو تشدد جنسی ہراسانی کم عمری کی شادیاں تعلیم سے محرومی اور جنگوں کے اثرات آج بھی لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ایسے میں جب ہم آٹھ مارچ کی بات کرتے ہیں تو ایک اور دردناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایران میں جنگ کے نتیجے میں ایک سو پینسٹھ معصوم بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ وہ بچیاں جو تعلیم حاصل کرنے نکلی تھیں مگر نفرت اور تشدد کی آگ نے ان کی زندگیوں کو نگل لیا۔ ان کی ماؤں کی آنکھوں میں جو خالی پن رہ گیا ہے وہ کسی بھی جشن کی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔

یہ سانحہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سانحہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا ابھی بھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں عورت اور بچی مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ جب ایک بچی خوف کے سائے میں اسکول جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔اسی لیے آٹھ مارچ کے دن یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ دن واقعی جشن کا دن ہے یا یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے؟ کیا ہم صرف تقریبات، سیمیناروں اور نعروں کے ذریعے عورتوں کے مسائل حل کر سکتے ہیں یا پھر ہمیں سماج کے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عورت کا مسئلہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مسئلہ ہے۔ جب کسی سماج میں عورت کو عزت اور برابری حاصل نہیں ہوتی تو وہ سماج حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ عورت کی آزادی دراصل انسان کی آزادی ہے اور عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے۔

آٹھ مارچ کو اگر واقعی بامعنی بنانا ہے تو اسے صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایک ایسے سماج کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے جہاں عورت کو خوف کے بغیر جینے کا حق حاصل ہو جہاں اس کی تعلیم اور اس کے خواب محفوظ ہوں اور جہاں اس کی آواز کو برابری کی اہمیت دی جائے۔جب تک دنیا کی ہر بچی محفوظ نہیں ہو جاتی جب تک ہر عورت کو انصاف اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی تب تک آٹھ مارچ کی اصل معنویت مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس دن کو ایک عہد کے دن کے طور پر دیکھنا ہوگا، ایسا عہد کہ ہم ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے اپنی ذمے داری ادا کریں گے۔

آٹھ مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ سفر جاری ہے اور اس سفر میں ہر باشعور انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہو،کیونکہ جب تک دنیا کی آدھی آبادی کو مکمل عزت اور آزادی حاصل نہیں ہوگی، تب تک انسانیت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔

مقبول خبریں