مٹاپا آج کے دور میں ایک عام مگر سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو زیادہ تر غیر متوازن خوراک اور غیر صحت مند طرزِ زندگی کے باعث پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایک بار انسان اس کا شکار ہو جائے اور بروقت اس پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرے تو وقت کے ساتھ یہ مسئلہ مزید بڑھتا جاتا ہے اور صحت کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے لگتا ہے۔ مٹاپے کی وجہ سے دل کی بیماریوں سمیت کئی دیگر طبی مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے بچنے کے لیے سب سے پہلا قدم اپنی خوراک کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔ انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ کون سی غذائیں صحت کے لیے فائدہ مند ہیں اور کون سی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں قدرتی اجزا پر مشتمل اور کم سے کم پروسیس شدہ غذاؤں کو ترجیح دینا بہتر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ زیادہ تر پروسیس شدہ کھانوں میں غذائیت کم جبکہ کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ متوازن اور صحت مند غذا نہ صرف وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی مٹاپے پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روزانہ ورزش کرنے سے جسم میں اضافی کیلوریز جلتی ہیں اور انسان جسمانی طور پر متحرک رہتا ہے۔ عام طور پر ماہرین روزانہ کم از کم تیس منٹ کی ورزش کی تجویز دیتے ہیں تاکہ صحت مند طرزِ زندگی برقرار رکھا جا سکے۔ اس عادت سے نہ صرف وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ دل کی صحت بہتر ہوتی ہے اور ذہنی سکون بھی حاصل ہوتا ہے۔
نیند کو بھی صحت مند زندگی کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے، مگر اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران لوگوں کی نیند کے دورانیے میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے سمیت کئی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ناکافی نیند نہ صرف مٹاپے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے بلکہ دیگر بیماریوں کا امکان بھی بڑھا دیتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹاپا محض ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور مناسب نیند کو معمول کا حصہ بنا کر نہ صرف وزن کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ صحت مند زندگی بھی گزاری جا سکتی ہے۔