رمضان المبارک کے 20 روز میں بھیک مانگنے کیلیے سعودی عرب جانے والے 900 پاکستانیوں کو روانگی کے عین وقت روکے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ انکشاف ایف آئی اے کراچی زون کے ڈائریکٹر منتظر مہدی نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے نے رمضان المبارک کے دوران بھیک مانگنے کیلیے سعودی عرب جانےوالے مختلف گداگروں کےخلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صرف کراچی ایئرپورٹ پر ہی 900 کے قریب ایسے افراد کو روانگی سے روکا گیا جو سعودی عرب بھیک مانگنے کیلیے جارہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پرانٹیجیلینس کا غیرمعمولی نظام قائم کرنے کے علاوہ مشکوک افراد کی سخت جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔
ڈائریکٹر کراچی زون نے بتایا کہ یہ کریک ڈاون سعودی حکومت کی طرف سےتسلسل کے ساتھ پاکستانیوں کی بےدخلی کی ریکارڈ کی بنیاد پرکیا گیا، سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں پر الزام ہےکہ وہ عمرے اورنوکری کے ویزوں پرجاکر سعودی عرب میں بھیک مانگتے ہیں،جس سے خلیجی ممالک کے سماجی نظام کونقصان اورپاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گداگروں کی نشاندہی کیلیے سعودی ڈی پورٹ ریکارڈ، ٹریول ہسٹری سمیت کئی پہلووں کی جانچ پڑتال کی گئی، جعلی ویزوں اور ایجنٹس سےحفاظت کےلیے قائم سہولت ڈیسک سے یومیہ 250سےزائد شہری استفادہ کررہےہیں۔
ایف آئی اے کراچی زون کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ قلیل وقت کےد وران شہریوں کوبیرون ملک ملازمتوں کا جھانسہ دینےوالے7 گینگز کو بےنقاب کیا جبکہ غیرقانونی حوالہ، ہنڈی کےخلاف مختلف کارروائیوں کےدوران کروڑوں روپے کی کرنسی تحویل میں لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی کے شکارمتاثرہ افراد مزید جرائم پرآمادہ اور اُن کا جھکاؤ عموما ایجنٹس کی طرف ہوتاہے۔ کسی پاکستان کو سمندروں میں ڈوبنے، بھیک مانگنے اوردیگرجرائم میں ملوث نہیں ہونے دیں گے۔