پشاور، ڈھائی کروڑ کی بینک ڈکیتی ناکام بنانے والا بہادر پولیس افسر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

اے ایس آئی بہار علی کو ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا


احتشام خان March 12, 2026

پشاور:

پشاور میں مچنی گیٹ کے قریب ڈھائی کروڑ کی بینک ڈکیتی ناکام بنانے والا بہادر پولیس افسر اے ایس آئی بہار علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پولیس کے مطابق اے ایس آئی بہار علی کو ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیر علاج رہے تاہم جانبر نہ ہو سکے اور بہار علی نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب مچنی گیٹ کے قریب ایک بینک میں تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کی ڈکیتی کی کوشش کی گئی۔

اطلاع ملنے پر اے ایس آئی بہار علی اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور رقم لوٹ کر فرار ہونے والے ڈاکوؤں کو روک لیا۔

پولیس کے مطابق بہار علی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو روکنے کی کوشش کی جس پر ایک ڈاکو نے ان پر فائرنگ کر دی۔

گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے تاہم ان کی کارروائی کے باعث بڑی ڈکیتی ناکام بنا دی گئی۔

شہید پولیس افسر کی نمازِ جنازہ ملک سعد شہید پولیس لائنز پشاور میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

نماز جنازہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز عباس احسن، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، پاک آرمی کے افسران، شہید کے لواحقین اور پولیس افسران و جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی بہار علی نے فرض کی ادائیگی کے دوران غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مقبول خبریں