کراچی: اربوں روپے کی لاگت سے شہر میں نصب ہونے والے ای چالان سسٹم کا بھانڈہ عدالت میں پھوٹ گیا، پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی بس کا چالان عدالت میں چیلنج کردیا گیا۔
بس اونر ایسو سی ایشن کے صدر فاروق احمد نے اپنے وکیل منصف جان ایڈووکیٹ کے توسط سے سیکریٹری ٹرانسپورٹ، آر ٹی اے، ڈی آئی جی ٹریفک و دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کمپنی کی تیار کردہ بس میں حد رفتار میٹر 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی اس رفتار سے زیادہ تیز چل ہی نہیں سکتی لیکن حکام کی جانب سے شہر میں نصب کیمرے نے میرے موکل کی دوران ڈرائیونگ گاڑی کی رفتار 160 ظاہر کرتے ہوئے ای چالان جاری کر دیا جو کہ نصب کئے گئے سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔
درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا ہے کہ حکام کی جانب سے نصب کیمروں اور گاڑیوں کی رفتار کو مانیٹر کرنے والا ٹریکنگ سسٹم کی غیر جانب دار ماہرین سے مکمل جانچ پڑتال کرائی جائے، بھاری جرمانے والے چالان منسوخ کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزار نے کہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے زمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے اور جب تک کیس پر فیصلہ ہونے تک جاری کیا گیا، ای چالان پر حکم امتناع دیا جائے۔
دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عدنان لکریم میمن نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔