رمضان میں پیٹ درد اور قبض سے بچنا ہے تو خوراک اور عادات میں یہ تبدیلیاں کریں

روزوں کے دوران اکثر افراد کو پیٹ درد اور قبض جیسی شکایات بھی لاحق ہو جاتی ہیں


ویب ڈیسک March 12, 2026
رمضان میں معمول کے کاموں کے ساتھ سحر و افطار پر اہتمام کرنا آسان ہے؟ فوٹو: فائل

رمضان المبارک میں مسلمان طویل وقت تک روزہ رکھتے ہیں اور تقریباً 16 گھنٹے تک کھانے پینے سے دور رہتے ہیں۔

اس دوران جسم کے معمولات میں بھی تبدیلی آتی ہے اور بعض افراد کو سستی، تھکن اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روزوں کے دوران کئی لوگوں کو پیٹ درد اور قبض جیسی شکایات بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ اکثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ افطار کے فوراً بعد زیادہ مقدار میں کھانا کھا لیتے ہیں۔ خصوصاً کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا زیادہ کھانے کی صورت میں پیٹ پھولنے اور ہاضمے کی خرابی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ 
اس کے علاوہ افطار کے بعد زیادہ تیزابی اور مصالحہ دار کھانے، سونے سے پہلے بھاری غذا کا استعمال اور جسم میں پانی کی کمی بھی پیٹ درد کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روزوں کے دوران قبض یا پیٹ درد کی شکایت ہو تو چند آسان احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ افطار کے بعد وقفے وقفے سے پانی پینا مفید سمجھا جاتا ہے اور ماہرین کے مطابق روزانہ کم از کم آٹھ سے دس گلاس پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

غذا کے انتخاب میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ افطار کے وقت تلی ہوئی اور زیادہ مصالحہ دار اشیا جیسے پکوڑے، سموسے یا مرچوں والی چنا چاٹ کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔ اس کے بجائے ہلکی اور ٹھنڈی غذائیں لینا بہتر رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خربوزہ اور تربوز جیسے پھل معدے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ سبزیوں میں گوبھی، بھنڈی اور دال کا استعمال بھی ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ رمضان میں ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنانا چاہیے۔ سحری کے بعد یا افطار سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے کی جانے والی ہلکی ورزش نہ صرف جسم کو متحرک رکھتی ہے بلکہ نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔

اسی طرح سحری میں شہد کا استعمال بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ شہد کو قبض کے خلاف مفید سمجھا جاتا ہے اور یہ گلے کی سوزش، کھانسی اور نزلہ زکام جیسی عام بیماریوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہد جسم کو توانائی فراہم کرنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں بھی معاون ہو سکتا ہے، تاہم شوگر کے مریضوں کو اس کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب دودھ اور دہی بھی معدے کی صحت کے لیے اہم غذائیں سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں موجود پروبائیوٹکس اور دیگر غذائی اجزا معدے کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ دودھ اور دہی میں وٹامن ڈی، پروٹین، زنک، میگنیشیم، فاسفورس اور مختلف بی وٹامنز بھی موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سحری میں روٹی کے ساتھ دہی کھانا اور آخر میں دودھ پینا معدے اور قبض کے مسائل کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں