مائیگرین کو عام طور پر آدھے سر کا درد یا دردِ شقیقہ کہا جاتا ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ یہ درد صرف سر کے ایک حصے تک محدود رہے۔
ماہرین کے مطابق وقفے وقفے سے ہونے والا شدید سر درد بھی مائیگرین کی ایک شکل ہو سکتا ہے۔ اکثر اوقات اس مرض کی بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی، جس کے باعث متاثرہ افراد مناسب علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مائیگرین کی علامات واضح ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ماہرِ صحت نے مائیگرین کے درد سے فوری آرام کے لیے ایک سادہ گھریلو طریقہ بتایا۔ ان کے مطابق آئس کیوبز اس درد میں فوری سکون فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ماہر صحت کے مطابق صبح اٹھنے کے بعد دو آئس کیوبز لے کر انہیں کچھ دیر کےلیے کانوں کی لو کے پیچھے رکھیں۔ ان کے بقول یہ ایک مؤثر پریشر پوائنٹ ہے جہاں ٹھنڈک پہنچنے سے درد میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تیسرا اہم پریشر پوائنٹ سر کے پچھلے حصے یعنی گدی پر ہوتا ہے۔ اگر اس مقام پر بھی ایک آئس کیوب چند لمحوں کے لیے رکھ دی جائے تو مائیگرین کے درد میں فوری آرام مل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے بعض اوقات درد اس قدر کم ہوجاتا ہے کہ مریض کو دوا لینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مائیگرین کے پیچھے جینیاتی عوامل کے ساتھ ساتھ دیگر وجوہات بھی کارفرما ہوسکتی ہیں۔ بعض غذائیں جیسے پنیر، چاکلیٹ، کیفین والے مشروبات اور دیگر مخصوص اشیا بعض افراد میں اس درد کو بڑھا سکتی ہیں۔ ہر مریض میں مائیگرین کی وجہ مختلف ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خواتین میں مائیگرین کا مسئلہ نسبتاً زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ غذائی عادات کے علاوہ شدید تھکاوٹ، ذہنی دباؤ اور موسمی تبدیلیاں بھی اس درد کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں۔