سانحہ گل پلازہ: سی ای او واٹر کارپوریشن نے جوڈیشل کمیشن میں سوالنامے کا جواب جمع کروا دیا

جائے وقوعہ تک فاصلہ، اطراف میں تعمیراتی کام اور ٹریفک جام کی وجہ سے آتشزدگی پر قابو پانے میں مشکلات ہوئی


کورٹ رپورٹر March 16, 2026

سانحہ گل پلازہ کمیشن کی کارروائی کے دوران سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے قبل فائر بریگیڈ کو ہائیڈرنٹس اور پانی کی فراہمی کے لیئے خط لکھا تھا، 26 دسمبر کو لکھے گئے خط میں پانی کے ذخیرے کے لئے ٹینک کی تعمیر اور باقاعدہ کنکشن کے لئے درخواست دینے کی ہدایت کی گئی تھی، تاحال فائر بریگیڈ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے  سوالنامے کا جواب جمع کروا دیا۔ احمد علی صدیقی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد أپریشن میں 7 قانونی ہائیڈرنٹس سے پانی فراہم کیا گیا۔

واٹر کارپوریشن کے فوکل پرسن کو آگ کی اطلاع 11 بجکر 13 منٹ پر موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے واٹر باوزر روانہ کئے گئے۔

ابتدائی طور پر نیپا، صفورا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس سے باوزر روانہ کئے گئے۔ آگ کی شدت میں اضافے کے بعد دیگر ہائیڈرنٹس سے بھی باوزر طلب کیئے گئے۔ رات 11 بجکر 56 منٹ سے مسلسل پانی کی فراہمی جاری رکھی گئی۔ فائر ہائیڈرنٹس کی فعالیت اور پانی کے پریشر واٹر کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں نہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سانحہ گل پلازہ سے قبل فائر بریگیڈ کو ہائیڈرنٹس اور پانی کی فراہمی کیلئے خط لکھا تھا۔ 26 دسمبر کو لکھے گئے خط میں پانی کے ذخیرے کے لئے ٹینک کی تعمیر اور باقاعدہ کنکشن کے لئے درخواست دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

واٹر کارپوریشن کو تاحال فائر بریگیڈ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی جانب سے 14 غیر قانونی ہائیڈرنٹس استعمال کیئے جانے پر کے ڈبلیو اینڈ ایس سی نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کروا دی، جو قانونی و احتسابی طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ قانون کے تحت واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا بنیادی کام شہر میں پانی کی فراہمی ہے۔

فائر فائٹنگ ہائیڈرنٹس کی دیکھ بھال یا پریشرائرڈ پانی کی تقسیم کا ذمہ دار نہیں۔ یہ ذمہ داری کے ایم سی اور فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ واٹر کارپوریشن کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ واٹر کارپوریشن مرکزی فائر اسٹیشن اور صدر فائر اسٹیشن کو یومیہ 6 گھنٹے پانی فراہم کرتا ہے، جائے وقوعہ تک فاصلہ، اطراف میں تعمیراتی کام اور ٹریفک جام کی وجہ سے آتشزدگی پر قابو پانے میں مشکلات ہوئی۔

سی ای او سیکرٹریٹ کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے 6 اہم سفارشات بھی کمیشن میں پیش کی گئی ہیں، جن میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو ریگولرائز کرنا، مشترکہ معائنہ کمیٹی کا قیام اور فائر فائٹنگ کے لیے مخصوص واٹر سٹوریج ٹینکس کی تعمیر شامل ہیں۔

مقبول خبریں