سید مراد علی شاہ کی زیر نگرانی وزیراعلیٰ ہاؤس میں ای-اسٹیمپنگ معاہدے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سندھ میں ڈیجیٹل گورننس کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تقریب میں صوبائی وزراء ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سردار شاہ، معاونِ خصوصی علی راشد، ترجمان سندھ حکومت بلند جونیجو، ندیم گبول، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
ای-اسٹیمپنگ کے لیے بورڈ آف ریونیو سندھ اور سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (SITC) کے درمیان معاہدہ طے پایا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات شفاف، مؤثر اور عوام دوست حکومت کی بنیاد ہیں اور ای-اسٹیمپنگ نظام سے جعلی اسٹامپ پیپر کا خاتمہ ممکن ہوگا جبکہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کی قطاروں سے نجات ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد چالان پراسیس کیے جا چکے ہیں جبکہ ای-اسٹیمپنگ کے ذریعے 12.8 ارب روپے وصول کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات صوبے میں گورننس کو جدید بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں اور مقصد شفافیت، کارکردگی اور عوام کے لیے آسان رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ اگلے مرحلے میں مکمل پیپر لیس نظام متعارف کرایا جائے گا اور شہری موبائل و لیپ ٹاپ کے ذریعے اسٹامپ پیپر حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سندھ پے‘ ڈیجیٹل ادائیگی نظام بھی جلد متعارف کرایا جائے گا جس کے ذریعے شہری ٹیکس، فیس اور دیگر ادائیگیاں آن لائن کر سکیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا تاکہ حساس ڈیٹا پاکستان میں محفوظ رکھا جا سکے جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل، پی آر سی، پراپرٹی ٹیکس اور جامعات کے ریکارڈ سمیت مختلف سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
تقریب میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ SITC کا اے آئی چیٹ بوٹ شہریوں کی رہنمائی کے لیے فعال ہے اور ’سندھ سٹیزن سپر ایپ‘ پر کام جاری ہے جس میں 130 سے زائد سرکاری خدمات فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ تمام محکموں کو مرحلہ وار ڈیجیٹل کیا جائے اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک کے تحت منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے تاکہ شفافیت، آمدنی میں اضافہ اور تیز تر عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔