دیر سے ناشتہ کرنا صحت کےلیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، ماہرین کی تنبیہ

جو افراد صبح دیر سے ناشتہ کرتے ہیں، ان میں ذہنی دباؤ اور تھکن کی شکایات نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہیں


ویب ڈیسک March 20, 2026

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ دن کی شروعات میں کیا جانے والا ناشتہ انسانی صحت کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وہ پہلی غذا ہوتی ہے جو رات بھر کے وقفے کے بعد جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین اکثر مشورہ دیتے ہیں کہ ناشتہ بھرپور ہونا چاہیے تاکہ دن بھر جسم اور دماغ فعال رہ سکیں۔

ناشتہ دراصل انگریزی لفظ Breakfast سے ماخوذ ہے جو دو الفاظ ’’بریک‘‘ اور ’’فاسٹ‘‘ پر مشتمل ہے، یعنی رات بھر کے روزے یا وقفے کو ختم کرنا۔ ماہرین کے مطابق یہ غذا نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد دیتی ہے۔ تاہم اس کے فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اسے مناسب وقت پر کیا جائے۔

حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ناشتہ دیر سے کرنے کی عادت انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر صبح کے وقت ناشتہ بروقت نہ کیا جائے تو اس کے اثرات جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

ایک طبی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دیر سے ناشتہ کرنے کی عادت بڑھتی عمر، ذہنی دباؤ اور منہ کی صحت کے مسائل سے منسلک ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق میں 42 سے 94 سال کی عمر کے تقریباً تین ہزار برطانوی افراد کے اعداد و شمار شامل کیے گئے، جنہیں بیس سال سے زیادہ عرصے تک زیرِ مطالعہ رکھا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد صبح دیر سے ناشتہ کرتے ہیں، ان میں ذہنی دباؤ اور تھکن کی شکایات نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد میں دانتوں اور مسوڑھوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دیر سے ناشتہ کرنے والے افراد میں جسمانی عمر بڑھنے کا عمل بھی تیزی سے ظاہر ہو سکتا ہے اور صحت کے مسائل وقت سے پہلے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ صبح جلدی ناشتہ کرنے اور کھانے کے بعد منہ کی صفائی کا خاص خیال رکھنے سے ان خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ کرنے کا وقت صحت پر خاصا اثر انداز ہوتا ہے، خصوصاً عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ اور بھی زیادہ اہم ہے۔ اسی لیے بہتر یہی ہے کہ روزمرہ معمولات میں صبح جلد ناشتہ کرنے کی عادت اپنائی جائے تاکہ ذہنی دباؤ، تھکن اور منہ کی بیماریوں جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

مقبول خبریں