امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اہداف کے حصول کے قریب پہنچ چکا ہے اور ایران کے خلاف کارروائیوں کو بتدریج کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی حکمت عملی کے تحت ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور اس سے متعلقہ نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے کا ہدف حاصل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنے، اس کی بحری اور فضائیہ کو ختم کرنے اور اینٹی ایئرکرافٹ نظام کو غیر مؤثر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب نہ پہنچ سکے اور اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو تو امریکا فوری اور بھرپور ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں، بشمول اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کے تحفظ کو بھی اعلیٰ ترین ترجیح دی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ اس اہم گزرگاہ کی نگرانی اور سیکیورٹی ان ممالک کی ذمہ داری ہونی چاہیے جو اسے استعمال کرتے ہیں جبکہ امریکا خود اسے استعمال نہیں کرتا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو امریکا ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے امریکی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی اور یہ دیگر ممالک کے لیے ایک آسان فوجی آپریشن ہوگا۔