امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اب ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
سی بی ایس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے سینیئر حکام ایران میں برّی فوج کے دستوں کی تعیناتی سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے اندر باقاعدہ منصوبہ بندی کی درخواستیں بھی دی جا رہی ہیں۔
سی بی ایس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط میں امریکی حکام نے بتایا کہ اگر امریکی فوج ایران میں داخل ہوتی ہے تو اس صورت میں ایرانی فوجیوں کو حراست میں لینے اور ان سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی ادارے United States Central Command نے بھی ممکنہ نقل و حرکت یا منصوبہ بندی پر کوئی مؤقف دینے سے انکار کیا ہے۔
ایران پہلے خبردار کرچکا ہے کہ اگر امریکا نے ایران میں اپنی فوجیں اتاریں تو انجام نہایت سنگین ہوگا اور نہ رکنے والی جنگ شروع ہوجائے گی جس کا انجام امریکی شکست پر ہوگا۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ وہ کہیں بھی فوجی دستے بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایسا کوئی منصوبہ ہوتا تو وہ اس کی پیشگی اطلاع نہیں دیتے۔