ایران نے 3600 کلومیٹر کی دوری پر واقع امریکا اور برطانیہ کے ایک مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا ایئربیس کو نشانہ بناکر سب کو حیران کردیا ہے۔
بحرِ ہند کے وسط میں واقع ڈیاگو گارشیا ایئربیس امریکا اور برطانیہ کا ایک نہایت اہم فوجی اڈہ ہے، جو کئی دہائیوں سے عالمی فوجی آپریشنز میں مرکزی کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔
ڈیاگو گارشیا کہاں واقع ہے؟
ڈیاگو گارشیا جزائر چاگوس کا حصہ ہے جو بحرِ ہند میں بھارت کے جنوبی کنارے سے دور ایک دور دراز جزیرہ نما سلسلہ ہے۔ یہ علاقہ 1814 سے برطانیہ کے کنٹرول میں ہے اور اسے برطانوی بحرِ ہند علاقہ (British Indian Ocean Territory) کہا جاتا ہے۔
فوجی اہمیت
ڈیاگو گارشیا کی جغرافیائی پوزیشن اسے مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں فوجی کارروائیوں کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز بناتی ہے۔اس ایئربیس پر تقریباً 2,500 اہلکار تعینات ہیں، جن میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے۔
امریکا یہ فوجی اڈہ کئی بڑی جنگی کارروائیوں میں استعمال کرچکا ہے جن میں ویتنام،عراق، افغانستان اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔
برطانیہ، امریکا اور ماریشس کے درمیان تنازع
ڈیاگو گارشیا اس وقت ایک سیاسی تنازع کا بھی مرکز ہے۔ برطانیہ حکومت جزائر چاگوس کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے بعد وہ اس ایئربیس کو دوبارہ لیز پر لے گا۔
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اڈے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اس پر قانونی چیلنجز کا خطرہ موجود ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے “انتہائی احمقانہ اقدام” قرار دیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر امریکی حکومت نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا، لیکن بعد میں اس پر اختلافات سامنے آئے۔
عالمی اہمیت
ڈیاگو گارشیا نہ صرف ایک فوجی اڈہ ہے بلکہ یہ بحرِ ہند میں طاقت کے توازن کا اہم مرکز، امریکی عالمی فوجی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ اور مشرقِ وسطیٰ سمیت ایشیا میں فوری فوجی رسپانس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔