مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی فضائی سفر شدید متاثر، ہزاروں پروازیں منسوخ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں عالمی ایوی ایشن نیٹ ورک دباؤ کا شکار، 20 بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز نے سکیورٹی خدشات پر پروازیں منسوخ یا ری روٹ کر دیں۔
دبئی، دوحہ اور ابوظہبی کے فضائی آپریشنز محدود، مسافروں کو شدید مشکلات، ایجیئن ایئرلائنز کی تل ابیب، بیروت، عمان پروازیں 22 اپریل تک معطل جبکہ اربیل و بغداد پروازیں 24 مئی اور دبئی 19 اپریل تک بند، ایئر بالٹک کی تل ابیب پروازیں 5 اپریل اور دبئی 24 اکتوبر تک معطل، ایئر کینیڈا کی تل ابیب پروازیں 2 مئی اور دبئی 28 مارچ تک منسوخ، ایئر یوروپا کی تل ابیب کے لیے فلائٹس 10 اپریل تک بند، کے ایل ایم کی ریاض، دمام، دبئی پروازیں 28 مارچ جبکہ تل ابیب 11 اپریل تک معطل، کیتھے پیسفک کی دبئی و ریاض کے لیے مسافر و کارگو فلائٹس 30 اپریل تک منسوخ کردی گئی۔
ڈیلٹا ایئرلائنز کی نیویارک-تل ابیب پروازیں 31 مارچ تک بند جبکہ اٹلانٹا سے تل ابیب فلائٹ آپریشن 4 اگست تک مؤخر، امارات ایئرلائن محدود شیڈول کے ساتھ پروازیں جاری رکھے ہوئے، اتحاد ایئرویز کا محدود کمرشل فلائٹ آپریشن برقرار رہا۔
فن ایئر کی دبئی پروازیں 29 مارچ اور دوحہ 2 اپریل تک معطل، فلائی ناس کی خلیجی و مشرق وسطیٰ روٹس پر پروازیں 31 مارچ تک بند، برٹش ایئرویز کی متعدد روٹس پر مئی تک پروازیں منسوخ جبکہ ابوظہبی کے لیے پروازیں غیر معینہ مدت تک معطل، انڈیگو کی خلیجی روٹس پر فلائٹ آپریشن 28 مارچ تک بند، جاپان ایئرلائنز کی ٹوکیو-دوحہ پروازیں 31 مارچ تک معطل کردی گئیں۔
لاٹ ایئر کی تل ابیب، دبئی، ریاض اور بیروت پروازیں مختلف تاریخوں تک منسوخ، لوفتھانسا گروپ کی متعدد مشرق وسطیٰ روٹس پر 28 مارچ تک پابندی جبکہ تہران کے لیے پروازیں 30 اپریل تک معطل، ملائیشیا ایئرلائنز کی دوحہ فلائٹس 28 مارچ تک بند کردی گئیں۔
ناروے ایئر کی تل ابیب و بیروت پروازوں کا آغاز جون تک مؤخر، پیگاسس ایئرلائنز کی متعدد ممالک کے لیے پروازیں 12 اپریل تک منسوخ، قطر ایئرویز کا محدود فلائٹ آپریشن 28 مارچ تک جاری ہے، ماہرین کے مطابق صورتحال بہتر نہ ہوئی تو عالمی فضائی نظام مزید متاثر ہوگا۔