ایران کے آنسو پوری امت کے آنسو ہیں، ترک صدر کی اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں مسلک، نسل یا قومیت کی کوئی تمیز نہیں رہی اور ہر حملہ مشترکہ نقصان کا سبب بن رہا ہے


ویب ڈیسک March 27, 2026

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایران میں جاری جنگی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں بہنے والے آنسو دنیا کے کسی بھی حصے میں بہنے والے مسلمانوں کے آنسوؤں سے مختلف نہیں ہیں۔

انقرہ میں حکمران جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے نفرت پر مبنی ایک ایسا نیٹ ورک قرار دیا جو خطے کو موجودہ صدی کے بدترین بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصفہان، تبریز اور تہران میں ہونے والے جانی نقصان اور دیگر شہروں جیسے اربیل، بغداد، بیروت، صنعاء، دوحہ اور ریاض میں ہونے والے نقصانات میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ ہر حملے کا اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں مسلک، نسل یا قومیت کی کوئی تمیز نہیں رہی اور ہر حملہ مشترکہ نقصان کا سبب بن رہا ہے۔

صدر اردوان نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں نے پورے خطے کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے، اور یہ جنگ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی اپنے برادر ممالک کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا اور ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جنگ کا آغاز کسی ایک فریق کی جانب سے ہوا ہو، لیکن اس کی قیمت سب سے زیادہ عام شہری اور پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔

ترک صدر نے مسجد اقصیٰ میں عبادات پر پابندی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ 1967 کے بعد پہلی بار عید کی نماز کی ادائیگی کو روکنا دنیا بھر کے مسلمانوں کے عقیدے کی توہین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ میں عبادت کا حق کسی بھی صورت میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔