سیاسی قیادت نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کروانے کی کوشش کو معاشی تخریب کاری قرار دے دیا

پی ٹی آئی عارف اجاکیہ کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، عطا تارڑ، نبیل گبول


ویب ڈیسک March 27, 2026

اسلام آباد:

پاکستان کی سیاسی قیادت نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کروانے کی کوشش کو کھلی معاشی تخریب کاری قرار دے دیا۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک جماعت اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ملک دشمن عناصر کے ساتھ مل کر سازشوں میں مصروف ہے، سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقابل برداشت ہے، پی ٹی آئی عارف اجاکیہ کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، پی ٹی آئی نے اپنے چار سالہ اقتدار میں ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا۔

نبیل گبول نے کہا کہ عمران خان کا بیٹا جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو منسوخ کرنے کے لیے پاکستان مخالف تخریب کاری پی ٹی آئی کے رنگوں میں لپٹی سیدھی غداری ہے،  یہ پی ٹی آئی کی خود غرض، ریاست مخالف کوشش ہے جو صرف ایک سزا یافتہ شخص کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے چٹان سے ٹکرا رہی ہے،  وہ ایک آدمی کو بچانے کے لیے پاکستان کی معیشت، ملازمتیں اور برآمدات کو جلا دیں گے۔

ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماوں کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے متعلق ردعمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، صرف اس لئے کہ ان کا سیاسی رہنما قید ہے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کسی پارٹی یا فرد کے بارے میں نہیں بلکہ لاکھوں مزدوروں کی روزی روٹی سے منسلک ہے، سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کو ہمیشہ پہلے آنا چاہیے۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو معطل کرنے کا ان کا مطالبہ مکمل طور پر غیر ضروری ہے اور سخت ترین مذمت کا مستحق ہے، نازک حالات میں پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانا غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول ہے ہمیں  کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان کے کزن ڈاکٹر عثمان اور زلفی بخاری کی موجودگی میں پاکستان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا، جو کہتے ہیں ہم نے پابندی کا نہیں کہا تو انسانی حقوق کا جھوٹا رونا کے کر وہاں چائے پینے گئے تھے؟  پاکستان پر پابندی لگوانے کے لیے پروگرام ملک دشمنوں کے ساتھ رکھا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے کہا کہ عمران خان کے صاحبزادے کا جی ایس پی پلس پر بیان افسوس ناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے، جی ایس پی پلس جیسے حساس معاملے پر غیر سنجیدہ گفتگو قومی مفاد کے خلاف ہے، ایسے بیانات سے پاکستان کی برآمدات اور عالمی ساکھ  متاثر ہو سکتی ہے۔

حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ہیومن رائٹس کونسل جانے والے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کو غزہ کے معصوم بچوں کے لیے انصاف کی بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی،  وہ  ایسا اس لیے نہیں کریں گے کیونکہ یہ خود اسی صیہونی لابی کا حصہ ہیں، یہودی لابی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔

رانا احسان افضل نے کہا کہ جیسا باپ نے آئی ایم ایف کو خط  لکھ کر کیا ویسا ہی بیٹے پاکستان کے خلاف عمل کر کے دکھا رہے ہیں،  پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کا خواہاں خاندان رہتا ایک ساتھ ہے۔

رہنما مسلم لیگ ن اختیار ولی نے کہا کہ عمران نیازی کا خون جنیوا میں بیٹھ کرپاکستان پر حملہ آور ہوا، بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں نے ’’را‘‘ اور ’’موساد‘‘  کے ایجنٹوں کے درمیان بیٹھ کر ایسا کیا، حیرت ہے ابھی تک پی ٹی آئی سے کسی ایک محب وطن نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا، کیا یہ ساری پارٹی ہی وطن دشمنوں کی ہے ؟

رکن بلوچستان اسمبلی مینا مجید بلوچ نے کہا کہ عالمی برادری پاکستان کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کردے، وطن عزیز کے خلاف ایسا پروپیگنڈا کرنے والے دہشت گرد تنظیموں کے پراکسیز ہی کر سکتے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں کی محنت اور اصطلاحات کے بعد جی ایس پی اسٹیٹس حاصل کیا، جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس پاکستان کو ایسے ہی نہیں مل گیا، غیر ذمہ دارانہ اور  پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے  بیانات نے لاکھوں غریبوں کی مزدوری کو داؤ پہ لگا دیا ہے، قومی مفاد کو ہر قسم کی ذاتیات سے بالاتر ہونا چاہیے۔

محمود مولوی نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے مفادات اور سیاست کی خاطر ملک اور عوام کی مفادات سے نہ کھیلے، عالمی فورمز پر جی ایس پی اسٹیٹس کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو یہ محض سیاست نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف ایک خطرناک رجحان بن جاتا ہے۔