مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے جہاں حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے گزشتہ روز سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر متعدد میزائل داغے تھے جس میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کا پرنس سلطان ایئر بیس امریکی فوج کے زیر استعمال ہے جس کو ایران نے نشانہ بنایا اور اس حملے میں کم از کم 12 امریکی فوجی بھی زخمی ہوئے جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔
ایرانی حملے میں امریکی فضائیہ کا جدید E-3 سینٹری (Sentry) طیارہ شدید متاثر ہوا ہے جو فضائی نگرانی اور جنگی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور سیکڑوں میل دور تک میزائلوں، ڈرونز اور طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھاتے ہوئے 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیا ہے۔
ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بھی پہلی بار اس جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیل پر دو میزائل داغے۔
اس جنگ میں حوثیوں کی شمولیت سے بحیرہ احمر میں اہم تجارتی راستوں، خاص طور پر تیل کی ترسیل، کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔