سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی عامر ولی الدین کی زیر صدارت ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں کے تعین کے میکنزم پر ڈریپ حکام نے بریفنگ دی۔
سی ای او ڈریپ کے مطابق نان ایسینشل ادویہ کے 500 برانڈز کا سروے کیا جا رہا ہے، اس سے قبل 100 برانڈز کا جائزہ لیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ دس ہفتوں میں رپورٹ موصول ہو جائے گی جس سے معلوم ہوگا کہ ڈی ریگولیشن کے بعد ادویات کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا۔
اجلاس میں پاکستان میں 2026 کے لیے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس نشستوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ ملک بھر میں میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی کل نشستیں 22 ہزار 322 ہو گئیں، جن میں پنجاب 10 ہزار سے زائد نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ سندھ میں 5 ہزار 640 نشستیں موجود ہیں۔
خیبرپختونخوا میں 3 ہزار 354، اسلام آباد میں 1600 اور بلوچستان میں 724 نشستیں مختص ہیں۔ نجی کالجز کی نشستیں 12 ہزار 440 جبکہ سرکاری کالجز میں 9 ہزار 882 نشستیں دستیاب ہیں۔
کمیٹی کو دیگر ممالک کی میڈیکل داخلہ پالیسیوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بھارت میں نیٹ انٹری ٹیسٹ اور کم از کم 50 فیصد نمبرز لازمی ہیں، بنگلہ دیش میں انٹری ٹیسٹ کے ساتھ 60 فیصد نمبرز کی شرط ہے جبکہ سعودی عرب میں 40 فیصد تحصیلی ٹیسٹ، 30 فیصد بورڈ اور 30 فیصد اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ پر مشتمل میرٹ فارمولا لاگو ہے۔
اجلاس کے دوران پی ایم اینڈ ڈی سی کے بورڈ میں نجی میڈیکل کالجز کے مالکان کی شمولیت پر سوال اٹھایا گیا۔
کمیٹی رکن روبینہ خالد نے کہا کہ نجی کالجز مالکان کی موجودگی مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے مؤقف اختیار کیا کہ نجی کالجز زیادہ ہونے کے باعث ان کی نمائندگی دی گئی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے تجویز دی کہ نجی میڈیکل کالجز کو فیس مقرر کرنے میں آزادی دی جائے جبکہ سرکاری کالجز کی فیس اور میرٹ کو برقرار رکھا جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں ایک لاکھ 44 ہزار طلبہ شریک ہوئے جبکہ ملک میں صرف 22 ہزار نشستیں دستیاب ہیں، جس کے باعث ہزاروں طلبہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جاتے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے طلبہ میں سے ایک فیصد سے زائد پاس نہیں ہو پاتے اور تجویز دی کہ نشستوں کی تعداد بڑھا کر 50 ہزار کی جائے۔