ایران پر غیرقانونی جنگ کی بنیادی ذمہ دار اسرائیل کی حکومت ہے، ترک صدر

مزید خون ریزی کے بغیر امن کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے چاہے اس کے لیے خود کو خطرے میں ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے، طیب اردوان


ویب ڈیسک April 01, 2026
فوٹو: انادولو

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری غیر قانونی جنگ کی بنیادی ذمہ داری اسرائیل کی حکومت پر عائد ہوتی ہے جبکہ مزید خون ریزی کے بغیر امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہم ہرممکن کوشش کریں گے چاہے اس کے لیے خود کو خطرے میں ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔

ترک خبر ایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے دارالحکومت انقرہ میں اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی حکومت اس غیر قانونی جنگ کی بنیادی ذمہ دار ہے، جس نے نہ صرف ہمارے خطے کو جنگ کا میدان بنا دیا ہے بلکہ پوری انسانیت پر معاشی بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ میں بہنے والا ہر خون کا قطرہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی سیاسی بقا کو طول دیتا ہے۔

اردوان نے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والا یہ تنازع ایک ماہ مکمل کر چکا ہے اور خطرات اور خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر ترکیے کی ترجیح اس ہنگامہ خیز دور سے محفوظ گزرنا اور اپنے ملک کو اس آگ سے دور رکھنے کا پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے کو درپیش بڑے خطرات میں نہ صرف جنگ کا طویل ہونا شامل ہے بلکہ اس کے وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کا خدشہ بھی ہے کیونکہ توانائی، نقل و حمل اور شہری انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے جوابی حملے اس امکان کو بڑھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پاکستان میں سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ چار فریقی اجلاس میں شرکت کی، جہاں خدشات پر تبادلہ خیال اور جنگ کے خاتمے کے اقدامات زیرغور آئے۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ وزیر دفاع یاسر گلیر، قومی انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ ابراہیم کیلن اور دیگر حکام بھی اپنے اپنے شعبوں میں بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، اگر خونریزی کے خاتمے، آنسو خشک ہونے، ہتھیاروں کی خاموشی اور مسائل کے سفارتی حل کی ذرا سی بھی امید ہو تو اسے حاصل کرنا ہمارا فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے ہی ترکیے کا اصولی مؤقف، اس کا رویہ اور دنیا و خطے کو دیے گئے پیغامات انسانیت اور ضمیر کی آواز رہے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ عالمی امن کے وژن کو فروغ نہیں دیتی بلکہ اسے نقصان پہنچاتی ہے، اس تعطل سے نکلنے کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور مفاہمت سب سے مؤثر ذرائع ہیں اور زیادہ سے زیادہ مطالبات پر اصرار کے بجائے مشترکہ نکات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک صدر نے توقع ظاہر کیا کہ ہماری امید ہے کہ مزید خونریزی کے بغیر امن کی راہ ہموار ہو اور اس کے لیے ہم ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے، چاہے اس کے لیے ہمیں خود کو خطرے میں ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔