سیاست اور جمہوریت کا مشکل مرحلہ

جمہوریت سے جڑی بحث کا آگے بڑھنا ہی جمہوریت کی بڑی کامیابی ہوتی ہے


سلمان عابد April 02, 2026
[email protected]

کسی بھی ریاست یا سماج میں جمہوریت اور جمہوری طرز فکر کی بحث مشکل حالات کے باوجود جاری رہنی چاہیے کیونکہ اسی بحث کی بنیاد پر ہم جمہوری عمل کو مستقبل کے تناظر میں مضبوط بناسکتے ہیں۔اگر جمہوری مباحث علمی اور فکری حلقوں سمیت سیاسی لوگوں میں کمزور یا ختم ہو جائے تو اس کا نتیجہ جمہوریت سے دوری کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔پاکستان جیسے سماج میں جمہوریت نہ صرف کمزور ہے بلکہ آج بھی مختلف نوعیت کی سیاسی اور غیر سیاسی مداخلتوں ،آمرانہ طرز عمل یا جمہوریت کے مقابلے میں ذاتی یا خاندان پر مبنی سیاست ارتقائی عمل کا حصہ ہے جو ہماری جمہوری فکر کی مختلف کمزوریوں کے پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔

ایک بڑی منطق یہ دی جاتی ہے کہ جب تک جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی سطح پر داخلی جمہوریت کا نظام مضبوط نہیں ہوگا ہم خارجی مداخلت یا سازشوں سے جمہوریت کو نہیں بچا سکیں گے۔سیاسی قوتیں اسٹیبلشمنٹ پر سیاست اور جمہوریت کی ناکامی کا الزام لگاتی ہیں۔لیکن اسی عمل میں اول وہ داخلی اور ذاتی جماعتی کردار نظر انداز کردیتی ہیں کہ خود ان کے اپنے عمل نے جمہوریت کو کیسے کمزور کیا یا وہ کیسے سہولت کار بن کر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے کھیل میں خود بھی ذمے دار رہے ہیں ۔

جمہوریت سے جڑی بحث کا آگے بڑھنا ہی جمہوریت کی بڑی کامیابی ہوتی ہے ۔لیکن یہ بحث اگر عملی اور فکری حلقوں سمیت سیاسی جماعتوں یا اہل دانش یا میڈیا کی سطح پر روائتی مباحث اور فرسودہ یا پرانے خیالات تک محدود رہے گی تو جمہوریت کا سفر حقیقی معنوں میں وہ بڑے سیاسی نتائج نہیں دے سکے گا جو جمہوری نظام کے تقاضے کے زمرے میں آتا ہے۔

مثال کے طور پر پچھلے دنوں ایک فکری مباحثے میں پاکستان کی مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کے تین راہنماؤں نے اعتراف کیا کہ ان کی جماعتی سطح کی داخلی سیاست میں قیادت کی حمایت یا خوشنودی حاصل کرنے کے لیے چاپلوسی کا پہلو نمایاں ہے۔سیاسی قیادت کسی بھی صورت میں یہ برداشت نہیں کرتی ہے کہ ان کی جو سیاسی اجارہ داری ہے یا ان کے سیاسی فیصلوں پر کوئی تنقید کی جائے ۔ان کے بقول جو بھی سیاسی افراد اس سوچ سے مختلف رائے یا بغاوت کرتے ہیں ان کے لیے ان کی اپنی سیاسی جماعتوں میں جگہ ختم یا محدود ہوجاتی ہے۔

ان کے بقول وہ خود بھی اپنی سیاست میں ان خرابیوں میں شامل ہیں ۔یہ خرابی کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ عمومی طورپر تمام بڑی اور چھوٹی جماعتیں اسی طرز فکر کے ساتھ سیاست کر رہی ہیں۔مسئلہ محض یہاں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اب ایک بڑی خرابی کارپوریٹ جمہوریت کی شکل میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں سیاسی کارکنوں یا مڈل یا لوئر مڈل کلاس طبقہ کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو سیاسی جماعتوں میں زیادہ پزیرائی مل رہی ہے جو دولت کی بنیاد پر سیاسی نظام،سیاسی جماعت اور قیادت پر مالی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔یعنی سرمائے اور دولت کی وافر فراہمی سیاست کے کھیل میں بنیادی اہمیت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔

ایک اور المیہ جو ہماری جمہوری سیاست میں ہمیشہ سے رہا اور اب وہ کافی خراب صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ ہم عمومی طور پر مخالف سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔سیاسی تنقید نے جس خوفناک انداز میں سیاسی دشمنی کی شکل اختیار کرلی ہے اس نے سیاسی انتہا پسندی اور سیاسی ماحول میں پرتشدد رجحانات کو جنم دیا ہے ۔پاکستان بننے سے لے کر آج تک ہم نے اپنے سیاسی مخالفین کو سیاسی دشمن،ملک دشمن، بھارت، اسرائیل اور امریکا نواز،غیر ملکی ایجنٹ ،یہود و ہنود کا آلہ کار،  ریاست دشمن یاغدار کے طور پر پیش کیا ہے ۔ اس کھیل میںسیاسی اور غیر سیاسی قوتیں دونوں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔

اس ملک کی سیاسی جماعتیں ایک ہی وقت میں ملک کی وفادار ہوتی ہیں اور دوسرے وقت میں ان کو ملک دشمنی کا خطاب دے دیا جاتا ہے ۔ہم جس گرم جوشی سے مختلف القاب کی بنیاد پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ یہ سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں اس سے یقینی طور پر سیاسی تلخی اور دشمنی سمیت جمہوریت کا عمل کمزوری کا سبب بنتا ہے۔اس کھیل میں نہ صرف سیاسی جماعتیں ، میڈیا اور مذہبی سطح پر وہ لوگ جن کے مفادات حکمران طبقات سے جڑے ہوتے ہیں وہ بھی اس کھیل کا حصہ بن جاتے ہیں اور پھر اس کی قیمت بھی وصول کرتے ہیں۔

آپ اگر میڈیا پر جاری جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی بحث کا تجزیہ کریں تو وہ جمہوریت کے حقیقی مسائل کی بجائے شخصیات کی ذاتی پسند و نا پسند سیاست یا ان کے درمیان باہمی سطح کے ٹکراؤ تک محدود ہوتی ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ ریٹنگ کی بنیاد پر قائم میڈیا ہے۔دوسری طرف ڈیجیٹل میڈیا کے محاذ پر بھی سنجیدہ بحثوں کا نہ ہونا ریٹنگ اورڈالر کی بنیاد پر پیسے کمانے کے کھیل کا حصہ ہے اور اس میں فیک نیوز کو بنیادی اہمیت مل چکی ہے ۔

سماج میں جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی،ادارہ جاتی استحکام اور قانونی دائرہ کار،عوامی مفادات،شفاف حکمرانی یا گورننس کا نظام اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب جمہوریت کا اپنا نظام شفافیت اور جوابدہی یا کڑی نگرانی کی بنیاد پر قائم ہو۔ہم تو آج تک اس ملک میں ایک مضبوط منصفانہ اور شفاف انتخابی نظام قائم نہیں کرسکے اور نہ ہی حکمرانی کا حق عوام کو دینے کے لیے تیار ہیں تو باقی باتیں جمہوریت کے تناظر میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ جمہوریت کے نظام کی مضبوطی کی بنیاد انقلاب نہیں بلکہ مختلف معاملات میں اصلاحات کے عمل سے ہی جڑی ہوتی ہے۔ لیکن ہماری اصلاحات کا پروگرام مخصوص طاقت ور طبقات کے گرد گھومتا ہے اور ہم ایک طاقت ور طبقاتی نظام سے جڑی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

ایسی جمہوریت میں عام آدمی کا حصہ کم ہوتا ہے اور اس کا عملی نتیجہ ان کا جمہوریت کے نظام پر اعتماد قائم نہیں ہوتا ہے۔آج ہمارا عدالتی نظام، اظہار آزادی کا حق، بیوروکریسی کے نظام کی سطح پر بے جا کنٹرول،سول ملٹری تعلقات ، انتخابی اور سیاسی یا معاشی نظام سمیت سیکیورٹی سے متعلقہ مسائل کہاں کھڑے ہیں، اس پر موجودہ سیاسی اور جمہوری نظام میں بحث کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

اس کے مقابلے میں ہائبرڈ اور کنٹرولڈ جمہوری نظام کی باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہم بہتر اور شفاف جمہوری نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ایک بات سمجھنی ہوگی کہ جب تک لوگوں کو باعزت طریقے سے اس نظام میں جمہوریت کو بنیاد بناکر ان کو حصہ دار نہیں بنایا جائے گا یہ نظام کسی بھی سطح پر اپنی ساکھ قائم نہیں کرسکے گا۔خیراتی بنیاد پر چلایا جانے والا معاشی نظام کبھی بھی لوگوں کو سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط نہیں بنا سکے گا۔

اس وقت دنیا کے جمہوری نظام پرجو بحث ہو رہی ہے اس سے بھی ہم کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ جمہوریت کا نظام ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت کمزور کیا جا رہا ہے اور اس پر عالمی مالیاتی کمپنیوں اور اداروں کا فیصلہ سازی پر کنٹرول بڑھ گیا ہے۔ دنیا میں لوگ جمہوریت کو بنیاد بنا کر اپنے آئین میں موجود بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں جو محض معاشی حقوق تک محدود نہیں بلکہ سیاسی ،سماجی اور آزادی اظہار پر مبنی حقوق بھی شامل ہیں۔لیکن ہم ان آوازوں کو قبول کرنے کی بجائے ان کو طاقت کی بنیاد پر ختم کرنا چاہتے ہیں یا سمجھتے ہیں ایسی آوازیں ہمارے لیے نئے خطرات پیدا کرسکتی ہیں۔

یہ جو ہم عالمی دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے تنازعات اور جنگوں یا جنگی بنیاد پر محفوظ کرنے کے کھیل کا حصہ بنتے جا رہے ہیں تو ایسے میں یہ حکمت عملی جمہوری نظام کے فیصلوں کے خلاف ہے جہاں ہم بات چیت کی مدد سے اپنے اہم مسائل کا حل جنگ کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنے سماج میں جمہوریت کی مضبوطی کے بڑے فریم ورک میں رہ کر بات بھی کرنی چاہیے اور اس بات کو بڑی بحث کا حصہ بھی بنانا چاہیے۔

جمہوریت جہاں ووٹ اور عوامی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے وہیں آئینی وقانونی بنیاد پر نظام کو چلانا اور افراد کے مقابلے میں اداروں کی بالادستی کا عمل ہی جمہوریت کے نظام کو مضبوط بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔اس لیے ہمیں خود بھی جمہوریت کے نام پر فکری مغالطوں اور فرسودہ خیالات سے باہر نکل کر ایک ایسے جمہوری نظام کی جنگ لڑنی ہے جو عوامی مفاد پر مبنی ہو اور جہاں لوگ جمہوریت کے ساتھ اپنی وابستگی کو برقرار رکھ سکیں ۔یہ ہی جمہوریت پر مبنی بحث ہے جسے ہر سطح پر ہمیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔