نام میں کیا رکھا ہے

عمران کرکٹ اسٹیڈیم۔ کیا ذہنیت ہے، کیا شرافت ہے کیا انسانیت ہے بلکہ کیا ڈھٹائی ہے۔


[email protected]

عمران کرکٹ اسٹیڈیم۔ کیا ذہنیت ہے، کیا شرافت ہے کیا انسانیت ہے بلکہ کیا ڈھٹائی ہے۔ خلیل جبران نے لکھا ہے کہ ایک جگہ ایک پل تعمیر ہوگیا تو اس پر بادشاہ وقت کا نام لکھا گیا حالانکہ بادشاہ نے اسے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔اور ان گدھوں کا کہیں ذکر نہیں تھا نہ ان آدمیوں کا جو اس پل کی تعمیر میں مرگئے تھے۔

تاج محل کو شاہ جہان کا کارنامہ کہا جاتا ہے لیکن گول کنڈہ کی کانوں سے پتھر لاتے ہوئے جو لوگ کچل کچل کر مرگئے تھے۔ان کی قبروں کا تو کیا، ان قبرستانوں کا بھی کسی کو پتہ نہیں جہاں وہ مٹی ہوگئے ہیں۔مصر کے اہراموں کو ان فارعین کے ناموں سے تو موسوم کیا گیا ہے جن کے عہد میں تعمیر ہوئے لیکن دور افریقہ کے پہاڑوں سے اتنے بڑے بڑے پتھر، اس زمانے میں نکال نکال کر، کشتیوں میں لاد کر پہنچانے اور اوپر چڑھانے والوں کا، مرنے والوں کا کوئی نام ونشان تک نہیں۔ہاں البتہ یہ ذکر موجود ہے کہ ان کی تعمیر میں کام کرنے والوں نے روٹی کے ساتھ کتنا پیاز اور لہسن کھایا تھا ۔

گویا انسان پیاز و لہسن سے بھی سستا تھا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کو اجرتیں دی جاتی تھیں لیکن اجرتیں کہاں سے لائی جاتی تھیں کیونکہ وہ تو پھول بھی اپنے گلدانوں کے لیے خود نہیں توڑتے۔خیر یہ تو بے شمار انسانی المیوں میں سے صرف ایک المیہ ہے لیکن دوسروں کے کارناموں کو اتنی ڈھٹائی سے اپنے نام کرنا؟۔اس معاملے میں پشتو کی ایک کہاوت ہے لیکن وہ کچھ بے وضو ہے اس لیے دوسری کہاوت سے کام چلاتے ہیں۔تورے دے لالا وھی نوڑئی دے عبداللہ وھی۔ ترجمہ۔تلوار لالا چلائے اور لقمے عبداللہ کھائے۔یہ جس اسٹیڈیم کا ہم ذکر کررہے ہیں اس کا پہلے والا نام بھی غلط تھا کہ ان صاحب نے بھی اس کی تعمیر میں کچھ نہیں کیا تھا۔

اگر نام رکھنا ہی تھا تو اس سرزمین کے رہنے والوں کا رکھنا چاہیے جن کے خون پسینے کی کمائی اس پر خرچ ہوئی ہے۔پشاور اسٹیڈیم سے اچھا اور مبنی بر انصاف نام اور کیا ہوسکتا ہے لیکن دکھ سہے فاختہ اور انڈے کھائے کوا۔یہاں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا تھا کہ ایوب خان نے اس کی منظوری دی تھی اور اسی کے عہد میں تعمیر ہوئی تھی لیکن افتتاح کے وقت ایک پارٹی کی حکومت تھی جسے دوسروں کے کام پر اپنے نام رکھنے کا جنون تھا۔ویسے سوچا جائے تو نام رکھنے میں اس نام والے کو کتنی رکعتوں کا ثواب ملتا ہے عذاب ہی ملتا ہوگا شاید لیکن پھر بھی ذرہ بھی نہیں شرماتے۔نام سے ہوتا کیا ہے۔اس ملک کا نام بھی تو ’’ریاست مدینہ‘‘ رکھا گیا تھا۔اور اس کے چپے چپے پر یہاں تک کہ دکانوں پر بھی مقدس نام لکھے گئے ہیں۔

ہمارے گاؤں میں ایک صاحب کو جنون ہوگیا تھا اس نے چھوٹے چھوٹے ٹین کے بورڈ لکھوائے اور ان پرمقدس نام لکھ کر گلیوں پر نصب کردیے۔ ہم نے اسے کہا، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے ان پاک ہستیوں کا احترام کیا ہے یا ان کی توہین کی ہے کہ گندے بدمعاش، جھوٹے، چوروں، بے ایمانوں کے محلوں پر مقدس اور پاک ہستیوں کے نام لکھ دیے۔ ہمارے عوام کالانعام کی رگ رگ سے خون نچوڑ کر بے نظیر کے نام سے موسوم کرنے سے بیچاری بے نظیر کو کیا فائدہ ملے گا۔اسے کہتے ہیں حلوائی کی دکان پر داداجی کا فاتحہ۔ جب اس نام والے کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا تو خوامخوا کسی حقدار سے اس کا حق چھیننا کہاں کی شرافت بلکہ انصاف ہے، البتہ تحریک انصاف ہوسکتا ہے اور ہے۔کہ یہ اسٹیڈیم کا کارنامہ تحریک انصاف کا انصاف ہے۔خیر چھوڑیے سیاسی لوگ تو ہوتے ہی نرالے ہیں، اب تھوڑی سی گپ شپ کرتے ہیں۔

یوں تو اس ملک میں ہر چھوٹی بڑی چیز پر نام رکھنے کا رواج ہے لیکن ایک چیز بلکہ تعمیر ایسی بھی ہے جس پر کوئی بھی اپنا نام رکھنے کو تیار نہیں ہوتا اور وہ چیز ہے ’’سرنگ‘‘حالانکہ ہر لحاظ سے یہ ایک بڑا کارنامہ ہوتا ہے اور مہنگا بھی۔ہمیں یاد ہے نام اور جگہ ہم نہیں بتائیں گے لیکن ہمارے اس صوبے کا واقعہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم نے ایک بہت بڑی سرنگ کا افتتاح کیا تو کسی نے اس سرنگ کو اس وزیراعظم کی سرنگ کہا۔ اس پر وزیراعظم نے کہا نہیں۔ اس نے صوبائی وزیراعلیٰ کا نام لیا۔لیکن وزیراعلیٰ نے بھی اپنا نام اس پر نہیں رکھا اس وقت سے ہم دیکھ رہے ہیں کتنی بڑی بڑی سرنگیں زرکثیر سے تعمیر ہوتی ہیں لیکن ان پر کسی کا نام نہیں رکھا جاتا ہے، البتہ عوام اسے کسی کے نام کردیتے ہیں۔

اس پر ہم نے ایک مرتبہ ’’توجہ دلاؤ ‘‘کالم بھی لکھا تھا،کہ جہاں ایک دو اینٹیں یا پتھر رکھنے پر نام رکھے جاتے ہیں وہاں اتنی مہنگی اور محنت طلب تعمیر پر کوئی بھی نام نہیں رکھا جاتا ہے،بہت بے انصافی ہے، ان دنوں روڈ ٹوسوات یعنی موٹروے کی تعمیر ہوئی تھی جس میں کئی بڑی بڑی سرنگیں بھی تعمیر ہوئی تھیں تو ہم نے مشورہ دیا،کہ ان میں ایک وزیراعلیٰ محمودخان سرنگ کا نام رکھا جائے اور ان دنوں مراد سعید کے بھی جوانی کے دن اور امنگوں کا سن تھا، اس لیے ایک پر مراد سعید سرنگ کا نام رکھا جائے لیکن کسی نے کان نہیں دھرا۔دراصل اس میں کچھ رکاوٹ زبان کی بھی ہے کہ پشتو میں اردو کی طرح فلاں سرنگ نہیں کہا جاتا ہے بلکہ’’فلاں کی سرنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ یہ سرنگ بڑی شریر سی چیز ہے یہ خود پر کسی کا نام نہیں رکھنے دیتی بلکہ دوسروں کو اپنے نام سے موسوم کردیتی ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک چالاک شخص نے ایک وزیر کو جھانسہ دے کر سڑک کے نیچے اپنی دکانوں کے لیے ایک سرنگ بنوائی۔وہ ایک بہت فراخ سرنگ تھی۔چنانچہ اس کے اندر کچھ لوگوں کو اپنی دکانیں سجانے کی سوجھی۔ پہلے ایک سائیکل ساز نے اپنی دکان سجائی تو لوگوں نے اسے ’’سرنگی‘‘ کا نام دیا یہاں تک کہ اس کے نام اور سائیکل کی جگہ وہ’’سرنگی‘‘ کہلائی پھر ایک سبزی فروش نے دکان سجائی۔تو کون سبزی فروش؟وہ سرنگی۔جا سرنگی سے یہ لا سرنگی سے وہ لا۔پھر ایک چائے والا بھی آ گیا۔ جب’’سرنگی‘‘ چائے والا‘‘کہلائی تو لوگوں نے وہاں دکان سجانے سے توبہ کرلی کہ کسی کو سرنگی بننا منظور نہیں تھا۔