امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نجی تقریب کے دوران فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک نجی لنچ کے دوران ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ نہ دینے پر تنقید کی۔ اس دوران انہوں نے فرانسیسی صدر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے فرانس کو فون کیا، میکرون، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں۔‘
ٹرمپ کا اشارہ ایک پرانی ویڈیو کی جانب تھا جس میں مبینہ طور پر بریجیٹ کو میکرون کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہوئے دکھایا گیا تھا، تاہم فرانسیسی صدر پہلے ہی اس ویڈیو کو گمراہ کن مہم کا حصہ قرار دے چکے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے فرانس سے خلیجی خطے میں مدد کی درخواست کی تھی، لیکن ان کے بقول میکرون نے جنگ کے بعد تعاون کی پیشکش کی۔ ٹرمپ نے اس جواب کو طنزیہ انداز میں دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری مدد درکار تھی، نہ کہ بعد میں۔
ٹرمپ نے اس موقع پر نیٹو پر بھی سخت تنقید کی اور اسے کاغذی شیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بڑا عالمی تنازعہ پیدا ہوا تو نیٹو شاید امریکا کے ساتھ کھڑا نہ ہو۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ایران جنگ کے بعد امریکا اپنے نیٹو کے ساتھ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان سے امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال پہلے ہی پیچیدہ ہو چکی ہے۔