ایران جنگ کا 34 واں دن: ٹرمپ کا جنگی اہداف حاصل کرنے کا دعوی، حملے جاری

عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد صفر ہے


ویب ڈیسک April 02, 2026

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 34 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے جبکہ خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے جنگی اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور جلد ہی اس مشن کو مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا، یورپ یا ہمسایہ ممالک کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں رکھتا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد صفر ہے۔

ایران میں صورتحال

ایرانی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں امریکی اور اسرائیلی بمباری جاری ہے، جبکہ ایرانی افواج بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ تہران، اصفہان اور دیگر شہروں میں حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک حملے میں سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی شدید زخمی ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ جاں بحق ہوئیں۔

خلیجی خطہ

متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اور ڈرونز کو مسلسل ناکام بنا رہا ہے۔ قطر کے قریب ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسرائیل میں صورتحال

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے ایک بار پھر میزائل حملے کیے جنہیں دفاعی نظام کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی۔ تل ابیب کے قریب حملے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت نے جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امریکی صدر کے بیان کو اسرائیل میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

لبنان اور عراق

لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جہاں بیروت میں ایک کارروائی کے دوران حزب اللہ کے ایک کمانڈر سمیت کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔


اسی طرح عراق میں ایک فوجی اڈے پر فضائی حملے میں 7 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔

عالمی معیشت پر اثرات

عالمی بینک نے اس جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر مہنگائی، روزگار اور خوراک کی فراہمی کے حوالے سے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے جنگ جلد ختم ہونے کے بیان کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔

ماہرین کے مطابق صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو خطہ مزید بڑے بحران کی طرف جا سکتا ہے۔