فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے واضح کردیا ہے کہ جب تک اسرائیل کی فوج غزہ سے واپس نہیں جاتی اور اس کی ضمانت نہیں دی جاتی اس وقت تک غیرمسلح ہونے کے لیے مذاکرات میں شریک ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر اس وقت تک بات نہیں کرے گی جب تک اس بات کی ضمانت نہیں دی جاتی ہے کہ اسرائیل غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرے گا، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے مجوزہ منصوبے میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا حماس کا غیر مسلح ہونا ان مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، جن کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کرنا اور اکتوبر کی جنگ بندی کو مستقل شکل دینا ہے۔
دو مصری ذرائع اور ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق حماس کے ایک وفد نے قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکیے کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ گزشتہ ماہ پیش کیے گئے غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر اپنا ابتدائی ردعمل دے سکے۔
خبرایجنسی کو مصری ذرائع نے بتایا کہ حماس نے اس منصوبے کے حوالے سے کئی مطالبات اور ترامیم پیش کیں، جن میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ، تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد اور اسرائیل کا غزہ سے مکمل انخلا شامل ہے۔
حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں وعدے کے باوجود حملے کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جن میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے لیے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد غزہ پر وحشیانہ بم باری کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہے جبکہ حماس کے حملے میں میں اسرائیلی میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
فلسطین پر مسلط اسرائیل کی اس جنگ کے نتیجے میں غزہ میں قحط نے جنم لیا، جہاں قابض اسرائیل نے بیرونی امداد اور رسد کے راستے بند کردیے تھے، اسرائیلی بم باری سے زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں اور خطے کی اکثر آبادی بے گھر ہوچکی ہے، اور ان میں سے لاکھوں افراد کو متعدد بار نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔