فرانس؛ پیرس میں مسلمانوں کے اجتماع پر پابندی، سیکیورٹی خطرہ قرار

پیرس میں سالانہ اجتماع کا انتظام کرنے والے ادارے کے سربراہ مخلوف مامیچ نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے


ویب ڈیسک April 03, 2026
فوٹو: فائل/رائٹرز

فرانس کی پولیس نے پیرس میں مسلمانوں کے سالانہ اجتماع کو سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی پولیس کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ پیرس کے علاقے میں آنے والے دنوں میں ہونے والے مسلمانوں کے سالانہ اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کیونکہ اسے سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

پیرس کے پولیس چیف پیٹرس فاؤر نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ لوراں نونیز کی درخواست پر میں نے 3 اپریل سے 6 اپریل تک پیرس کے لے بورژے ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہونے والے فرانس میں مسلمانوں کے 40ویں سالانہ اجتماع پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک ایسے قومی اور بین الاقوامی تناظر میں کیا گیا ہے جہاں کشیدگی میں اضافہ، دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ، بدامنی کے خدشات اور آنے والے دنوں میں سڑکوں پر پولیس کی بھاری موجودگی شامل ہے۔

خیال رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں، اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے بینک آف امریکا کے دفاتر پر بم حملے کی ناکام کوشش کے بعد فرانس نے پیرس بھر میں حساس مقامات پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

اجتماع کا انتظام کرنے والے ادارے کے سربراہ مخلوف مامیچ نے فرانسیسی حکومت کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے پابندی کے حکم کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کی تنظیم اس فیصلے کے خلاف قانونی اپیل کرے گی۔