دانشمندی بھی ضروری ہے

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں بہت بڑی تباہی پر اب ایران کو دانشمندی دکھانا چاہیے وہ اپنی طاقت تو دکھاچکا


[email protected]

ایک ماہ کی جنگ میں ایران کا سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور ایرانی حملوں میں خلیجی ریاستیں بھی اسرائیل سے زیادہ متاثر ہوئیں جب کہ اسرائیل کا بھی جانی سے زیادہ مالی نقصان ہوا جو وہ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا جس کا ایران سے کوئی جھگڑا ہی نہیں تھا کا سب سے کم نقصان ہوا جو وہ اپنے وسائل سے پورا کرنے کی بجائے ان خلیجی ممالک کے ذریعے ہی پورا کرے گا جن کی حفاظت کے لیے وہ ان سے اربوں ڈالر وصول کرچکا ہے مگر اس نے جان بوجھ کر ان کی حفاظت نہیں کی اور انھیں ایرانی حملوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ امریکا ایران سے بہت دور واقع ہے جس کا نقصان ایران نے خلیجی ممالک میں ان امریکی اڈوں کو پہنچاکرلیا تو ہے مگر ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اپنے بے شمار شہروں کو تباہ و برباد بھی کرالیا ہے اور ایران کے ہزاروں لوگوں کا جانی نقصان بھی ہوا ہے جو سب سے زیادہ ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو ایران ہی سب سے زیادہ نقصان میں رہے گا۔

سپرپاور ہونے کے دعوے دار امریکا نے اسرائیلی شیطان کے کہنے پر ایران پر اس وقت حملے کیے جب کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور ایران کے مثبت روئیے کے باعث ان مذاکرات کی کامیابی کا اسرائیل کو خوف تھا جس کی وجہ سے اسرائیل کے وزیراعظم نے امریکی صدر کو گمراہ کن رپورٹ کی بنیاد پر امریکا کو ایران پر اچانک حملوں کے لیے آمادہ کیا اور خود بھی ایران پر حملوں میں امریکا کے ساتھ شامل ہوگیا۔ امریکا نے سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا تاکہ ایران میں رجیم تبدیل ہوجائے، مگر اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر ایرانیوں نے امریکی صدر کی خواہش کے بالکل برعکس ردعمل دیا جس کی امریکا کو قطعی طور پر توقع نہیں تھی۔

ایران کے عوام نے اپنے اس سب سے بڑے نقصان پر اپنے ملک کی حفاظت کے لیے امریکی و اسرائیلی جارحیت کو اپنی غیرت پر حملہ سمجھا اور حملوں کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر حکومت کی حمایت میں نکل آئے اور ایرانی رجیم تبدیلی کا اپنے دشمنوں کا خواب خاک میں ملادیا اور کہیں رجیم تبدیلی کے حامی باہر نہیں نکلے اور انھوں نے متحد ہوکر اپنے سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں شرکت کرکے دنیا کو اور خاص کر امریکا و اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔امریکا اور اسرائیل نے ایرانی عوام کا رویہ دیکھ کر بھی حقائق کا ادراک نہیں کیا اور ایران کے مزید اہم رہنماؤں کو بھی شہید کردیا جب کہ ایرانی صدر جان بچانے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم کی طرح چھپ کر نہیں بیٹھے بلکہ باہر آکر اپنے عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئے جنھیں اپنے درمیان دیکھ کر ایرانی عوام کا حوصلہ مزید بڑھا اور عوام اور ایرانی حکومت نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم میں کوئی اختلاف نہیں اور ہم سب ایک، متحد اور اپنے دشمنوں کے خلاف کھڑے ہیں ۔

امریکا کا اس کے اتحادی ممالک اور نیٹو تک نے ساتھ نہیں دیا۔ نہ برطانیہ نے اپنی فوج ایران بھیجی جس پر امریکی صدر سخت برہم ہوکر دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور دنیا اس سے پوچھ رہی ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جنگ کیوں شروع کی اور امریکا کے مقاصد کیا تھے جس کے جواب میں امریکی صدر مختلف اعلان پر مجبور ہوا مگر اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں بلکہ جھوٹے وعدے کررہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ اور اس کی جنگی صلاحیت ختم کردی اور رجیم چینج کے اپنے مقاصد بھی حاصل کر لیے ہیں جب کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر نامزد ہوچکے ۔ ایرانی صدر بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں تو رجیم کہاں تبدیل ہوئی ہے۔

ایک ماہ کی جنگ سے ایران پسپا ہوا نہ ہی جنگ بندی مان رہا ہے اور امریکی صدر خود بار بار عارضی جنگ بندی کا اعلان کررہے ہیں مگر ایران اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اہداف پر مسلسل حملے کررہا ہے۔ امریکا یہ بھی واضح کررہا ہے کہ ہماری سعودیہ اور خلیج کے اپنے پڑوسی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

ایران اپنا دفاع کرنے کے ساتھ اسرائیل کو منہ توڑ جواب بھی دے رہا ہے اور خلیج کے اپنے مسلم پڑوسیوں کو کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے امریکی فوج نکالیں اور وہ امریکی اڈے ختم کریں جہاں سے امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے تھے۔اس جنگ میں ایران میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری و نجی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں جو ایران کا بڑا مالی نقصان ہے اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک ایرانی حملوں پر سخت برہم ہیں اور اپنا دفاع کررہے ہیں مگر ایران پر جوابی حملے نا کرکے برد باری کا مظاہرہ کررہے ہیں جب کہ امریکا و اسرائیل چاہتا ہے کہ ایرانی حملوں سے متاثرہ ممالک جوابی حملہ کریں تاکہ مسلم ممالک آپس میں جنگ شروع کردیں۔

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں بہت بڑی تباہی پر اب ایران کو دانشمندی دکھانا چاہیے وہ اپنی طاقت تو دکھاچکا مگر موجودہ جنگ کا حل صرف مذاکرات ہیں جس پر اسلام آباد آنے والے وزرائے خارجہ نے بھی زور دیا ہے کہ جنگ کی مزید طوالت دانشمندی نہیں ہے۔ اب ایران مصالحت کے لیے مذاکرات پر راضی ہوجائے کیوں کہ ماضی میں ہندوستان کی ریاست میسور نے بھی جنگ کو ترجیحدی تھی جس سے ٹیپو سلطان کا مشہور اعلان کہ گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے تو زندہ ہے اس کی ریاست میسور تباہ ہوکر ختم ہوچکی جس کا وجود بھی باقی نہیں۔ حالات بدل چکے اب جذبات نہیں دانشمندی سے فیصلوں کا وقت ہے۔