امریکی دفاعی بجٹ1.5 ٹریلین ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز، سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان

73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے


ویب ڈیسک April 03, 2026

امریکا کا دفاعی بجٹ 1.5 کھرب ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ  سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان ہے، دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری کے لیے کانگریس سے درخواست کر دی ہے، جو جدید تاریخ میں فوجی اخراجات کی بلند ترین سطح ہو سکتی ہے۔

 وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے بجٹ منصوبے میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے، ان کٹوتیوں کا ہدف صحت، تعلیم، رہائش اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے امدادی منصوبے ہیں۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر جاری تنازعات، خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، چاہے اس کے لیے فلاحی پروگرامز میں کمی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ تاہم اس مجوزہ بجٹ پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف وفاقی قرضے میں مزید اضافہ کرے گا بلکہ عوامی فلاح کے اہم شعبے بھی متاثر ہوں گے۔

 ادھر وائٹ ہاؤس نے داخلی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد کمی کی تجویز دی ہے، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے، اساتذہ کی تربیت، طبی تحقیق، صاف توانائی اور ٹیکس فراڈ کے خاتمے جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ بعض پروگرامز، جو اقلیتی برادریوں اور کمزور طبقات کی مدد کرتے ہیں، مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔

بجٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے تحت محکمہ انصاف کے لیے 40 ارب ڈالر سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ بجٹ بغیر بڑی تبدیلیوں کے منظور ہو جاتا ہے تو آئندہ دہائی میں امریکی قرضے میں کھربوں ڈالر کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تقریباً 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

 یاد رہے کہ امریکی آئین کے تحت بجٹ کی حتمی منظوری کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور صدر کی تجویز کو قانون بنانے کے لیے قانون سازوں کی منظوری درکار ہوگی۔