وینڈر بلٹ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے دریافت کیا کہ نمک (سوڈیم) کا زیادہ استعمال براہِ راست اور خودمختار طور پر پہلی بار ہارٹ فیلئر کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر اُن افراد میں جو پہلے ہی زیادہ خطرے میں ہیں۔
جرنل آف دی امیریکن کالج آف کارڈیولوجی: ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں امریکا کے جنوب مشرقی علاقوں کے 25 ہزار 300 سے زائد افراد شریک ہوئے۔ اس گروہ میں زیادہ تر سیاہ فام اور کم آمدنی والے افراد شامل تھے، جن کو دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے خطرے زیادہ ہوتے ہیں۔
سامنے آنے والے چونکا دینے والے نتائج میں معلوم ہوا کہ شرکاء اوسطاً تجویز کردہ مقدار سے تقریباً دو گنا زیادہ نمک استعمال کر رہے تھے۔ اس زیادہ نمک والی خوراک کا تعلق دل کی نئی بیماری کے خطرے میں 15 فی صد اضافے سے پایا گیا۔
محققین کے مطابق اگر نمک کے استعمال میں تھوڑی سی بھی کمی کی جائے تو اس سے اس زیادہ خطرے والے گروہ میں دل کی بیماری کے بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔
امیریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور امریکی وفاقی گائیڈ لائنز کے مطابق روزانہ 2300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم نہیں لینا چاہیے۔ لیکن اس تحقیق میں شامل افراد اوسطاً 4269 ملی گرام روزانہ استعمال کر رہے تھے، جو تقریباً دگنی مقدار ہے۔
مطالعے کے مطابق تقریباً 80 فی صد شرکاء روزانہ تجویز کردہ مقدار سے زیادہ نمک استعمال کر رہے تھے۔
مزید یہ کہ روزانہ نمک میں ہر اضافی 1000 ملی گرام میں پہلی بار ہارٹ فیلئر کے خطرے میں 8 فی صد اضافے سے منسلک پایا گیا۔