ٹرمپ نے امریکی مشن اپنے پائلٹ کو نکالنے کیلیے نہیں بلکہ یورینیئم چُرانے بھیجا تھا، ایران

امریکی صدر کی ہدایت پر ایران میں پھنسے پائلٹ کو نکالنے دو امریکی مشن بھاری اسلحہ سمیت گئے تھے


ویب ڈیسک April 06, 2026
امریکی فوجی مشن کا مقصد ایران کے ایٹمی مواد تک رسائی تھا

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا لاپتا پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے مشن کا اصل مقصد ہمارے افزودہ یورینیم چرانا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے ایران میں امریکی فوج کے مشن کو ڈھونگ قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس نام نہاد مشن کے نام پر امریکی فوجیوں نے جس مقام پر اترنے کی کوشش کی وہاں کسی پائلٹ کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہ امریکی دعوے کے برعکس پائلٹ کی مبینہ موجودگی کا مقام اس مشن کی جگہ سے بہت دور ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی فوجی ایٹمی مواد تک رسائی چاہتے تھے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی ناکام سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کے ریسکیو مشن کی آڑ میں ٹرمپ انتطامیہ نے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔

اُنھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی سلامتی اور ایٹمی تنصیبات کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

قبل ازیں امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔