ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے ساتھ واقع ایک یہودی عبادت گاہ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ یہ دعویٰ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملہ تہران کے مرکزی علاقے میں کیا گیا جہاں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے قریب واقع یہودی عبادت گاہ بھی زد میں آ کر تباہ ہو گئی۔ علاقے کی تنگ گلیوں کے باعث قریبی عمارتوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
تاحال اس حملے میں جانی نقصان کی کوئی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ایرانی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری ویڈیوز میں تباہی کے مناظر اور امدادی کارکنوں کو ملبہ ہٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں صدیوں سے یہودی برادری موجود ہے اور اندازاً 20 ہزار کے قریب یہودی اب بھی ایران میں رہتے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ میں ان کے لیے ایک نشست بھی مخصوص ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک نئی اور بڑی فضائی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس میں ملک بھر کے مختلف انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ حملوں میں دارالحکومت تہران سمیت اہم تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی میزائل حملوں کے پیش نظر دفاعی نظام کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو موبائل فونز کے ذریعے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔
ادھر ایران میں دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں زوردار دھماکے سنے گئے جو ممکنہ طور پر مہر آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہوئے، جبکہ قریبی شہر کھارگ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
خطے میں جاری ان حملوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور صورتحال ایک بڑے تصادم کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔