اسلام آباد:
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی نیشنل سپریم کونسل کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدہ طے کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ قطری میڈیا نے بھی ایرانی نیشنل سپریم کونسل کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق کی خبر نشر کی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ایک باضابطہ معاہدے کی شکل دینا مذاکرات کا اہم ہدف ہوگا، جبکہ اگر دونوں فریق متفق ہوئے تو مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے اور اسے دوطرفہ سیز فائر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے بھی پاکستان کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، جس کی منظوری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی۔