یورپی یونین نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کیا لیکن اس کے باوجود توانائی کی قیمت کا بحران جلد ختم نہیں ہوگا۔
خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کمیشن کی ترجمان اینا کائیسا ایٹکونین نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ اہم میری ٹائم کوریڈور میں کشیدگی میں فوری طور پر کمی سے توانائی کی مارکیٹوں میں صورت حال فوری طور پر بحال ہونے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس خیال میں نہیں رہنا چاہیے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا یہ موجودہ بحران جلد ختم ہوگا تو ایسا نہیں ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ اس تعطل نے عالمی سطح پر سپلائی چین کی خامیوں کو بے نقاب کیا ہے اور خدشہ ہے کہ اس کے طویل عرصے تک اثرات ہوں گے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کمیشن کی ترجمان کا بیان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق اور آبنائے ہرمز بحال کرنے کے وعدے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اینا کائیسا ایٹکونین نے کہا کہ یورپی یونین کی ایل این جی کی تقریباً 8.5 فیصد ایل این جی کی درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خطے میں ممالک سے 7 فیصد تیل بھی یہی سے آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریفائن ایندھن کا انحصار اس سے کہیں زیادہ ہے جو یونین کے جیٹ فیول اور ڈیزل کی 40 فیصد درآمد اسی بحری راستے سے پوری ہوتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ عالمی سطح پر ٹرانسپورٹس یا تیل اور ایل این جی دونوں کی 20 فیصد ٹرانزٹ آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، اس لیے یہ انتہائی اہم پوائنٹ ہے اور حالیہ پابندیوں نے مارکیٹس پر پہلے ہی واضح اثرات مرتب کیے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد ورفت کی بحالی کا امکان ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے لیے آمادگی کے بعد پیدا ہوا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر حملے روک دیے جائیں گے جبکہ ایران نے کہا کہ اگر حملے روک دیے جاتے ہیں تو وہ بھی حملے روک دے گا اور آبنائے ہرمز کی مشروط طور پر بحالی ہوگی۔