اسلام آباد مذاکرات؛ امریکا-ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد مذاکرات کا آغاز

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان تاریخ ساز امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، سرکاری ٹی وی


ویب ڈیسک April 11, 2026

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں مذاکرات ہو رہے ہیں جہاں دونوں فریقین کشیدگی کے بعد پہلی بار براہ راست ایک میز پر بیٹھے ہیں۔

پاکستان ٹیلی وژن کے مطابق اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان تاریخ ساز امن مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے جہاں دونوں فریقین کشیدگی کے بعد پہلی بار براہ راست ایک میز پر بیٹھے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیاکہ اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد پاکستان کی مؤثر سفارت کاری اور عالمی قیادت کے مثبت بیانات نے جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کی امید کو مزید تقویت دی ہے جبکہ دنیا کی نظریں ان اہم مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جس میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندے اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں۔

ایرانی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کی معاشی، سیاسی اور قانونی ٹیکنیکل کمیٹیاں بھی ملاقاتیں کر رہی ہیں اور مذاکرات میں دونوں اطراف سے ان کے ماہرین بھی شرکت کر رہے ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطح کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں، ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور ان کے معاون وزیرخارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر شامل تھے اور ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرداخلہ محسن نقوی اور دیگر بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے حل کے لیے بطور مصالحت کار مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا تاکہ خطے اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں معنی خیز نتائج کے حصول کے لیے پیش رفت میں مدد ملے۔

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظإ و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور محسن نقوی بھی موجود تھے۔