پاکستان فلم انڈسٹری کے لیے موجودہ سال ایک نئی امید لے کر آیا ہے۔ فلم ’آگ لگے بستی میں‘ نے ریلیز کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود سینما گھروں میں جو جوش و خروش پیدا کیا ہے، اس نے فلمی حلقوں اور شائقین کو حیران کر دیا ہے۔
ایکسپریس ایکسکلوزو کے لیے احسان سبزواری اور معروف رپورٹر آفتاب خان کے درمیان ہونے والی خصوصی گفتگو میں پاکستانی سینما کے مستقبل اور اس فلم کی کامیابی کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
باکس آفس پر ریکارڈ ساز کامیابی
آفتاب خان کے مطابق، فلم ’آگ لگے بستی‘ اس وقت پاکستان کی کامیاب ترین فلموں کی فہرست میں شامل ہونے جا رہی ہے۔ عید پر ریلیز ہونے والی اس فلم نے اب تک 40 سے 50 کروڑ روپے کا بزنس کر لیا ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ کراچی اور دیگر شہروں کے سینما گھروں میں رات گئے کے شوز بھی ہاؤس فل جا رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام نے ایک طویل عرصے بعد پاکستانی مواد کو دل سے قبول کیا ہے۔
کامیابی کے پیچھے چھپے اسباب: اسٹینڈ اپ کامیڈی کا جادو
گفتگو کے دوران یہ دلچسپ نکتہ سامنے آیا کہ جہاں آج کی نوجوان نسل مختصر دورانیے کی سوشل میڈیا ویڈیوز کی عادی ہے، وہیں وہ اس طویل دورانیے کی فلم کو دیکھنے کے لیے جوق درجوق سینما کا رخ کر رہی ہے۔ آفتاب خان نے اس کی بڑی وجہ اسٹینڈ اپ کامیڈی کے اثرات کو قرار دیا۔ فلم میں تابش ہاشمی اور علی عبداللہ کی موجودگی نے نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ تابش ہاشمی، جو اپنی میزبانی کے لیے مشہور ہیں، انہوں نے اپنی پہلی ہی فلم میں 'ولن' کا کردار ادا کر کے ایک بڑا جوا کھیلا جو کہ کامیاب رہا۔
ماہرہ خان کا نیا روپ اور بنگلہ دیش میں نمائش
فلم کی ہیروئن ماہرہ خان کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’مولا جٹ‘ میں ان کے پنجابی کردار پر ہونے والی تنقید کے بعد، اس فلم میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نئے انداز میں منوایا ہے۔ ان کے کردار میں دیہی اور شہری زندگی کے خوابوں کی جو کشمکش دکھائی گئی ہے، اس سے شائقین خود کو جوڑا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
اس فلم کی ایک اور بڑی کامیابی اس کی بنگلہ دیش میں باقاعدہ ریلیز ہے۔ 1971 کے بعد یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے کہ کوئی اردو فلم وہاں کے سینما گھروں کی زینت بنی، جسے وہاں کے عوام نے بھی بے حد سراہا ہے۔
’بلا‘ بمقابلہ ’آگ لگے بستی‘: شان کی واپسی
عید پر ریلیز ہونے والی دوسری بڑی فلم ’بلا‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آفتاب خان نے کہا کہ شان شاہد جیسے بڑے اسٹار کی 8 سے 10 سال بعد واپسی خوش آئند تھی، لیکن شاید غلط ٹائمنگ اور فلم کے تشدد آمیز موضوع کی وجہ سے یہ فلم ’آگ لگے بستی‘ کے سائے میں دب کر رہ گئی۔ شان کا کرشمہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر عوامی رجحان اس وقت ہلکی پھلکی تفریح اور سماجی کہانیوں کی طرف زیادہ ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی: ڈرائیو ان سینما کی واپسی
سینما کی مکمل بحالی کے لیے آفتاب خان نے حکومتی سرپرستی اور سستے ٹکٹوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے میئر کراچی کے اس اعلان کو سراہا جس میں شہر میں ’ڈرائیو ان سینما‘ کو دوبارہ شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس سے وہ طبقہ بھی فلم دیکھ سکے گا جو مہنگے سینما گھروں کے ٹکٹ برداشت نہیں کر سکتا۔
شائقین کے لیے پیغام
احسان سبزواری نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے شائقین سے اپیل کی کہ وہ فلموں کو سینما گھروں میں جا کر دیکھیں تاکہ انڈسٹری اور نئے اداکاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پائریسی سے بچ کر ہی ہم اپنی فلم انڈسٹری کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔ فہد مصطفیٰ، تابش ہاشمی اور علی عبداللہ کی یہ فلم نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ پاکستانی فلم میکنگ کے گرتے ہوئے گراف کو بھی سہارا دے رہی ہے۔