امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کچھ نکات پر اتفاق ہوچکا ہے لیکن ایران نے یورینیئم افزودگی بند اور ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کی شقیں ماننے سے انکار کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کہا کہ وہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انھوں نے آبنائے ہرمز بند کرنے کو غیردانشمندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز 34 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں جو ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ہی ایران کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا جبکہ دیگر ممالک ایسا کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی شروع ہوگئی اور کچھ ممالک نے مدد کی پیشکش بھی کی ہے لیکن ایران پر حملے کے لیے اب ہمیں کسی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے آج بھی امریکا سے رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدہ کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔ اس سے قبل کچھ نکات طے پا گئے تھے لیکن ایران نے یورینیئم افزودگی نہ کرنے اور جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے نکات پر اتفاق نہیں کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ بڑی تعداد میں بڑے بڑے آئل ٹینکرز اور جہاز امریکا پہنچ رہے ہیں تاکہ ہم سے اعلیٰ معیار کا تیل خرید سکیں۔
امریکی صدر نے ایک بار دھمکی دی ہے کہ ایران کے بعد اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا جہاں عوام کو آمرانہ حکومت کا سامنا ہے۔