کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
ترجمان سندھ پولیس نے بتایا کہ منگھوپیر میں فائرنگ سے شدید زخمی پولیس اہلکار دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الہٰی مستوئی نے بتایا کہ تھانہ منگھوپیر کے علاقے منگھوپیر نہر کے قریب پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوا اور دوطرفہ فائرنگ کے دوران دو پولیس اہلکار کانسٹیبل خادم اور طفیل زخمی ہوئے جنہیں نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ موٹرسائیکل سوار مسلح ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوئے تاہم ناکہ بندی کرکے تلاش کی جاری ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے منگھوپیر میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ میں پولیس اہلکار شہادت اور دوسرے کے زخمی ہونے کے واقعے پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
آئی جی نے زخمی پولیس اہلکار کو بہترین طبی سہولت فراہم کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق شہید پولیس اہلکار کی شناخت 35 سالہ خادم کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں سر پر گولی لگی تھی، زخمی اہلکار طفیل کی عمر 30 سال ہے۔
وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ ایس ایس پی ویسٹ کو ہدایت کی کہ فی الفور جملہ پولیس ایکشن اور اقدامات سے آگاہ کریں اور کہا کہ پولیس کو نشانہ بنانے میں ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جامع تفتیش اور تحقیق کی بدولت ملزمان تک رسائی اور گرفتاری یقینی بنائی جائے اور واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیم تشکیل دی جائے۔
وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے بتایا کہ زخمی اہلکار کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، واقعے کی تفتیش، تحقیق اور پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔