گھٹنوں کو مضبوط رکھنا ہے؟ روزمرہ عادات بدلیں، عمر بھر فائدہ اٹھائیں

گھٹنوں کی حفاظت کو نظر انداز کرنا مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے


ویب ڈیسک April 17, 2026

گھٹنوں کا درد اب صرف بڑھاپے تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں میں بھی تیزی سے عام ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں غیر متحرک طرزِ زندگی، بڑھتا ہوا وزن اور کھیلوں یا روزمرہ سرگرمیوں کے دوران لگنے والی چوٹیں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ گھٹنے ہمارے روزمرہ کے تقریباً ہر کام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کو نظر انداز کرنا مستقبل میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

چلنے پھرنے سے لے کر سیڑھیاں چڑھنے اور ورزش کرنے تک، گھٹنوں پر مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو معمولی تکلیف بھی وقت کے ساتھ سنگین مسئلے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق چند سادہ اور مستقل عادات اپنانے سے گھٹنوں کو طویل عرصے تک صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے اہم بات وزن کو قابو میں رکھنا ہے، کیونکہ اضافی وزن گھٹنوں پر غیر معمولی دباؤ ڈالتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف ایک کلو اضافی وزن بھی گھٹنوں پر کئی گنا زیادہ بوجھ ڈال سکتا ہے، جس سے جوڑ تیزی سے متاثر ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کے اردگرد موجود پٹھوں کو مضبوط بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش جیسے اسکواٹس، ٹانگوں کو اوپر اٹھانے کی مشق اور سائیکلنگ نہ صرف گھٹنوں کو سہارا دیتی ہیں بلکہ چوٹ کے خطرے کو بھی کم کرتی ہیں۔

ماہرین مناسب جوتوں کے انتخاب پر بھی زور دیتے ہیں۔ نرم تلوے اور آرام دہ جوتے گھٹنوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرتے ہیں، جبکہ سخت یا غیر موزوں جوتے درد اور سوجن کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی طرح بیٹھنے، اٹھنے اور وزن اٹھانے کا درست طریقہ اپنانا بھی ضروری ہے تاکہ گھٹنوں پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔

غذا کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلشیئم اور وٹامن ڈی سے بھرپور خوراک ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے، جبکہ اومیگا تھری سے بھرپور غذائیں سوزش کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ معمولی درد یا سوجن کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بروقت توجہ نہ دینے کی صورت میں یہی معمولی علامات بعد میں بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر صحت مند عادات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو نہ صرف گھٹنوں کو دیر تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ مجموعی معیارِ زندگی بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔