سنتے تھے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے مگر موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں ہوتے ہی نہیں بلکہ بے انتہا مضبوط اور تیز رفتار ہوتے ہیں اور جھوٹ اتنی تیزی سے پھیلتا اور تیز دوڑتا ہے کہ جھوٹ کے مقابلے میں سچ بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور کمزوری کے باعث دوڑنا تو دور کی بات سچ چلنے کے قابل بھی نہیں رہتا اور جھوٹ سچ کو بہت پیچھے چھوڑ کر ناصرف بہت آگے پہنچ کر مقابلہ بھی جیت جاتا ہے اور دنیا سے خود کو کامیاب بھی تسلیم کرا لیتا ہے اور دنیا جھوٹ کو سچ مان لیتی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں تقریباً دو عشروں سے یہی ہو رہا ہے یہاں جھوٹ بولنے میں سب سے آگے رہنے والوں کو صادق و امین قرار دے دیا جاتا ہے اور سچ بولنے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ 45 سال پرانے کیس میں ایک سابق وزیر اعظم کی پھانسی کو غلط قرار دیا جا چکا ہے۔
ملکی سیاست میں جھوٹوں کی شاخیں اندرون ملک سے نکل کر بیرون ملک بھی پہنچ چکی ہیں اور جھوٹوں کی ان شاخوں میں ایک سے ایک بڑھ کر جھوٹ بولنے اور جھوٹ پھیلانے کا مقابلہ صرف زیادہ سے زیادہ ڈالر کمانے کے لیے ہو رہا ہے اور ڈالروں کے ان پجاریوں نے جھوٹ بولنے کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں کیونکہ ملک سے باہر بیٹھے ان لوگوں کو ملک کے قانون کی فکر ہے نہیں اس لیے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔
سیاست کبھی عبادت سمجھ کر کی جاتی تھی مگر اب اس سیاست کو نصف صدی گزر چکی۔ 1970 کے بعد ملک کی سیاست عوامی ہو گئی تھی اور کہا جاتا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ روشناس کرائے جانے کے بعد سیاست عام آدمی تک پہنچ گئی تھی جو پہلے بہت محدود تھی اور اسے عوامی شعور کا نام دیا گیا تھا ۔
پنجاب و سندھ کے سیاسی شعور نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا تھا جس کے نتیجے میں جن دو بڑوں کو اقتدار تو ملا تھا مگر دونوں جان سے بھی گئے تھے۔ ملک میں طویل مارشل لا لگانے والے پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک میں انتخابات کرانے کا کہہ کر بھی انتخابات نہیں کرائے تھے۔ اس ایک جھوٹ کے بعد ملک کی دو بڑی پرانی پارٹیوں میں جھوٹوں کا مقابلہ شروع ہوا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں میں ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ شروع ہوا جو عدالتوں میں ثابت تو نہ کیے جا سکے تھے۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے جھوٹے مقدمات میں سزائیں بھگتیں اور جلاوطنی بھی کاٹی اور پھر لندن میں یہ سیکھا کہ انتقام اور جھوٹے مقدمات کی سیاست ختم کریں گے جس کے بعد دونوں پارٹیوں کو اپنی اپنی حکومت میں پہلی بار پانچ سالہ مدت اقتدار پوری کرنے کا موقع ملا اور پھر بالاتروں کی پشت پناہی سے ایک نئے اچھی شہرت اور ایمانداری کے دعویدار نے 1999 تک اقتدار میں رہنے والے دو وزرائے اعظم پر بے انتہا جھوٹے الزامات سے اپنی سیاست کو فروغ دے کر 2018 میں اقتدار حاصل کیا تھا جس کے سوشل میڈیا نے وزیر اعظم کی قیادت میں نئے جھوٹوں کی سیاست کا آغاز کیا تھا اس جھوٹی سیاست نے سیاست میں جھوٹوں کو اس قدر فروغ دیا کہ جو اب مادر پدر آزاد ہوئی مگر اس نے اپنی بہتری ملک میں رہنے کی بجائے بیرون ملک منتقل ہونے میں سمجھی کیونکہ وہاں ہر قسم کی انھیں آزادی میسر ہے ۔
بیرون ملک رہ کر جھوٹوں کا مقابلہ کرنے والے خود کو پاکستانی قرار دے رہے ہیں اور اپنے بانی کی حکومت میں فیض یاب بھی ہوئے مگر ان کی حکومت کے جانے کے بعد پی ڈی ایم حکومت میں اقتدار میں آنے والوں نے محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ جو ان کی حکومت میں ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں وہ ان کے لیے درد سر بن جائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنے ملک سے ہی دشمنی میں اتر آئیں گے۔ ڈالروں کی محبت میں اپنی مخالفین کی حکومت میں وہ اس انتہا پر آگئے کہ گزشتہ سال انھوں نے بھارتی جارحیت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کی اور اب جب قدرت نے پاکستان کو سرفرازی کا موقع دیا تب بھی انھیں اپنے ملک کی قدر افزائی کی توفیق نہیں ہوئی اور حالیہ جنگ میں پاکستان کا ثالثی کا کردار پسند نہیں آیا اور بھارتی وزیر خارجہ کی تقلید میں وہ اپنے ہی ملک کے خلاف شر انگیز جھوٹ اس طرح پھیلا رہے ہیں جیسے انھیں اپنے ملک لوٹ کر نہیں آنا۔