موجودہ امریکی حکومت اور امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کئی نقاد امریکی صحافیوں سے سخت ناراض ہیں۔ اِس کا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 11اپریل 2026کو نائب امریکی صدر ( جے ڈی وانس) ایرانیوں سے امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے تو اُنہی15 چنیدہ امریکی صحافیوں کو اپنے ساتھ لائے جو ٹرمپ حکومت کے ہر طرح سے حمائیتی سمجھے جاتے ہیں۔ٹرمپ صاحب کی نقاد امریکی صحافیوں سے ناراضی روز افزوں ہے ۔
جب اسلام آباد میں جے ڈی وانس ایرانیوں سے مذاکرات کر رہے تھے، اُنہی لمحات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان یوں سامنے آیا:’’ جس بیہودگی سے ایران ، امریکہ( جنگ بندی کے حوالے سے)10نکاتی جعلی منصوبہ رپورٹ کیا گیا اور اِس بارے غلط معلومات پھیلائیں، اِن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ امریکی صدر کی امریکی صحافیوں کو دی جانے والی آئے روز کی دھمکیوں کی بنیاد پر بجا طور پر سمجھا جارہا ہے کہ امریکہ میں بھی صحافتی آزادیاں قدرے سُکڑ اور سمٹ کررہ گئی ہیں ۔
مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ممتاز امریکی اخبار کے خلاف 10ارب ڈالر کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کررکھا تھا ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا :’’ اس اخبار نے بدنامِ زمانہ Epstein Filesمیں میرا نام بِلا وجہ شامل کر دیا ہے۔ میرا تو اس ( جیفری ایپسٹن) سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔‘‘13اپریل2026 کو امریکی ڈسٹرکٹ جج Darrin Gaylesنے مذکورہ ہتک عزت مقدمے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سناتے ہُوئے لکھا:’’ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے وکلا اِس اخبار کے رپورٹر اور مالک کے خلاف ہتک ِ عزت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے ۔‘‘جناب ڈونلڈ ٹرمپ مخالف صحافیوں کے حق میں آنے والے فیصلے سے سخت پریشان ہیں، مگر مذکورہ اخبار اور صحافیوں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دیکھا دیکھی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) بھی آزاد منش امریکی صحافیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے آگے بڑھ آئے ہیں۔ امریکی صحافی مگر ہار ماننے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے ہیں ۔ وہ امریکی آئین میں دی گئی صحافتی آزادیوں کے تحفظ کے لیے عدالتوں کے دروازوں پر مسلسل دستک دے رہے ہیں ۔ اِس سے نظر آتا ہے کہ ابھی امریکی حکمران اور اسٹیبلشمنٹ امریکی میڈیا پر مکمل غلبہ پانے میں کامیاب نہیں ہو رہے ۔
امریکی وزیر دفاع (پیٹ ہیگستھ) نے اپنے اور امریکی صدر ( ڈونلڈ ٹرمپ) کے کئی ناقد اور مخالف صحافیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ نہ تو پینٹاگان (امریکی وزارتِ دفاع کا ہیڈ کوارٹر) کی خبریں رپورٹ کر سکتے ہیں اور نہ ہی پینٹاگان کے دفاتر میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ پیٹ ہیگستھ کے جابرانہ حکم سے ناقد صحافیوں کو Pentagon Press Corpsہی سے نکال باہر کر دیا گیا تھا ۔ جس وقت اِس حکم کا اعلان کیا گیا،اُس وقت ناقد امریکی صحافی پینٹاگان کی ایک بریفنگ میں شریک تھے ۔ زیر عتاب صحافیوں نے مگر یہ حکم خاموشی سے سُننے سے نہ صرف انکار کر دیا ، بلکہ اُسی وقت مذکورہ پریس بریفنگ کا مقاطعہ بھی کر دیا ۔
زیر پابندی صحافیوں نے فوری طور پر عدالت کے دروازے پر دستک بھی دے ڈالی ۔ جن امریکی صحافیوں نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ، اُن کی قیادت امریکہ کے ایک ممتاز ترین اخبارکے صحافی کر رہے تھے۔کسی اور اخبار نویس بھی درخواست گزار صحافیوں میں شامل تھے ۔ عدالت میں درخواست دائر کیے جانے کے باوجود مذکورہ صحافی ، اپنے ذرائع سے ، پینٹاگان بارے رپورٹنگ کرتے رہے ۔ یہ اقدام اِس امر کا بھی ثبوت ہے کہ صحافیوں پر اگرچہ کوئی سرکاری شعبہ پابندی عائد کردے ، مگر وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے دستکش نہیں ہوتے ۔
مارچ2026کے تیسرے ہفتے اِس مقدمے کا فیصلہ کر دیا گیا ۔ فیصلہ اُن صحافیوں کے حق میں آیا جنھوں نے امریکی وزیر دفاع ،پینٹاگان اور امریکی صدر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ 21مارچ 2026 کو واشنگٹن کے فیڈرل جج Paul Friedmanنے اپنے شاندار فیصلے میں لکھا: ’’صحافیوں پر پینٹاگان کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں نہ صرف ناجائز ہیں بلکہ یہ پابندیاں امریکی آئین میں دی گئی آزادیِ اظہار کے حقوق سے متصادم بھی ہیں ۔ پیٹ ہیگستھ و دیگر کی جانب سے (ناقد) صحافیوں پر لگائی پابندیاں امریکی آئین میں مندرج صحافتی آزادیوں کی پہلی اور پانچویں ترمیمی شق کے مخالف ہیں۔اِن صحافتی آزادیوں پر پچھلے250برس سے مسلسل عمل ہو رہا ہے ۔
اِن کی راہ میں ہرگز رکاوٹیں نہیں ڈالی جا سکتیں ۔ جن امریکی دانشمندوں نے امریکی آئین لکھا اور ترتیب دیا تھا، اُنہیں یقینِ کامل تھا کہ امریکہ کی قومی سلامتی آزادیِ اظہار میں پنہاں ہے۔ ‘‘ناقد امریکی صحافیوں نے اپنے حق میں اور امریکی حکومت (اور امریکی وزارتِ دفاع کے خلاف) آنے والے مذکورہ فیصلے پر واشنگٹن میں خوب جشن منایا ہے ؛چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ فیصلہ آنے کے بعد ایک اخبار کے ترجمان (Charlie Stadtlander)نے کہا: ’’ اِس فیصلے پر ہم ہی نہیں ، ساری امریکی قوم خوش ہے ۔
آزاد منش صحافی اور امریکی آئین سرخرو ہُوئے ہیں ۔امریکی عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ اُن کی حکومتیں کیسے کام کررہی ہیں ۔ اگر ہماری وزارتِ دفاع کسی ملک کے خلاف ایکشن کرتی ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اِس حملے کی وجوہ کیا ہیں؟اِس میں امریکہ اور امریکی عوام کے کیا مفادات ہیں؟ امریکی عوام کے دیے گئے ٹیکس ڈالرز کا مصرف کیسے اور کہاں کہاں ہو رہا ہے ؟ہم سب امریکی صحافی ہر امریکی حکومت سے ،عوامی مفاد میں، ہر قسم کا سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں ۔‘‘
انصاف پسند امریکی جج نے انصاف پسند و انصاف کے متلاشی درخواست گزار امریکی صحافیوں کے حق میں جو فیصلہ سنایا ہے، یہ مثالی اور خاصا حوصلہ افزا ہے۔ اِس فیصلے میں ہم پاکستانی صحافیوں اور ہماری عدالتوں کے لیے بھی کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔
صحافت اور میڈیا پر جو پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اُنہیں جملہ حاکم طبقہ ’’قومی سلامتی کے مفاد میں‘‘ قرار دے کر مطمئن ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے جن صحافیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں ، اُن کے بارے میں بھی ( مذکورہ فیصلہ آنے سے قبل) سرکاری امریکی وکیل نے یہی کہا تھا کہ’’ یہ پابندیاں امریکی قومی سلامتی کے پیشِ نظر عائد کی گئی ہیں ‘‘۔
گلف وار میں جب امریکی و اتحادی افواج نے صدام حسین پر مل کر قیامت خیز حملہ کیا تھا، تب بھی آزاد منش امریکی میڈیا اور صحافیوں پر یہ کہہ کر پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ ’’ امریکی قومی سلامتی کے مفاد اورامریکی حکومت کی مرضی کے برعکس کوئی خبر شائع و نشر نہیں ہو سکتی ۔‘‘ لیکن جرأتمند امریکی صحافیوں (مثال کے طور پرBob Kohn ( نےJournalistic Fraudنامی کتابیں لکھ کر امریکی حکمرانوں کے خبثِ باطن اور میڈیا دشمنی کا پردہ چاک کر ڈالا۔کاش ، ہمارے ہاں بھی ایسی جرأتمندانہ مثالیں سامنے آ سکتیں !