صدر مملکت اور وزیراعظم کا لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں دانشمندانہ سفارتی کوششوں کے ذریعے لبنان میں جنگ بندی ممکن ہوئی، شہباز شریف


ویب ڈیسک April 17, 2026
فوٹو فائل

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر آصف زرداری نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و سکون کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں صدر مملکت نے  کہا کہ پاکستان خطے کے استحکام کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پائیدار امن صرف مذاکرات، خودمختاری کے باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی دیرپا امن کی جانب پیش رفت کا ایک موقع  ہے۔

لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں دیرپا امن کا انحصار تنازعات کی بنیادی وجوہات کے حل پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ  پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی اور منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے فروغ کے لیے ہر مخلصانہ اقدام کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے  کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتے کی جنگ بندی کے وسیع تر  مفادمیں لبنان میں بھی تحمل شامل تھا  جس کی  اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی۔ 

صدرمملکت  نے کہا کہ اس  اقدام کی  کسی بھی انحراف سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔   اس اہم مرحلے پر جروری ہے کہ تمام فریقین  تحمل اور ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں ۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں دانشمندانہ سفارتی کوششوں کے ذریعے لبنان میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اُمید ظاہر کی کہ لبنان میں ہونے والی جنگ بندی پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔