امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ دورہ اسلام آباد نے جہاں سفارتی حلقوں میں ہلچل مچائی، وہیں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اس موقع کو مزاح کا رنگ دے کر یادگار بنا دیا۔
ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں ان کی آمد کے بعد انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ دلچسپ میمز کی بھرمار ہوگئی، جنہوں نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں جے ڈی وینس کو کبھی ہوٹل پر بیٹھے چائے کا پیالہ تھامے دیکھا گیا، تو کہیں وہ روایتی ناشتے ’انڈا پراٹھا‘ سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔ ایک تصویر میں انہیں ’کوئٹہ ککڑ ہوٹل‘ میں ناشتہ کرتے دکھایا گیا، جس نے صارفین کو خوب محظوظ کیا۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ اے آئی میمز میں انہیں روایتی پاکستانی لباس شلوار قمیض میں ملبوس دکھایا گیا، جبکہ بعض تصاویر میں وہ بازاروں، مساجد اور شہر کے مختلف مقامات پر گھومتے پھرتے نظر آئے۔ یہاں تک کہ ایک میم میں انہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ گلے ملتے اور امن کا نشان بناتے بھی دکھایا گیا، جبکہ ساتھ میز پر شہباز شریف بیٹھے ہیں اور پس منظر میں نریندر مودی چائے پیش کر رہے ہیں۔
یہی نہیں، کچھ صارفین نے تو انہیں پاکستانی مٹھائی ’ریوڑی‘ کے ڈبوں پر بھی فِٹ کردیا، جہاں روایتی برانڈ امیج کی جگہ ان کا چہرہ لگا دیا گیا۔ کہیں وہ الیکٹرک اسکوٹر پر گھومتے دکھائی دیے تو کہیں چائے خانوں میں گپ شپ کرتے نظر آئے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ سب محض تفریح کے لیے ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کی ثقافت کو دنیا کے سامنے دلچسپ انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ اگر پاکستانی مزاح کو پیسوں میں بدلا جا سکے تو شاید ملک کے قرضے بھی اتر جائیں۔
ماہرین کے مطابق یہ میمز دراصل ’سافٹ پاور‘ کی ایک نئی شکل ہیں، جہاں بغیر کسی سرکاری مہم کے، عوام خود اپنے ملک کا مثبت اور رنگین چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان میمز سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی عوام جے ڈی وینس کی ممکنہ واپسی کے منتظر ہیں، اور چاہتے ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کرے۔
یوں ایک سنجیدہ سفارتی دورہ، پاکستانیوں کے مزاح اور تخلیقی صلاحیت کے باعث سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ ٹرینڈ میں بدل گیا، جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔