ایران کا افزودہ یورینیئم امریکا لایا جائے گا، اس پر ملکر کام کریں گے؛ ٹرمپ کا دعویٰ

ایران نے آج تمام ممالک کے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا


ویب ڈیسک April 17, 2026
ایران کی افزودہ یورینیئم کو امریکا لیکر آئیں گے؛ صدر ٹرمپ (اے آئی جنڑیٹڈ؛ تصوراتی تصویر)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کیا جائے گا جس کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا منظم مرحلے لیکن آہستہ رفتار سے آگے بڑھے گا۔

صدرٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مل کر ان کے ملک میں پورے احتیاط اور آرام سے کھدائی کرکے بڑی مشینری کے ذریعے جوہری مواد نکالیں گے۔ پھر اسے امریکا لے آئیں گے۔

امریکی صدر نے اس عمل کو نیوکلیئر ڈسٹ سے بھی تعبیر کیا اور کہا کہ یہ وہ باقیات ہیں جو گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائی حملوں کے بعد بچی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اس کارروائی کی بنیادی وجہ تھی۔

خیال رہے کہ ایران کے پاس اس وقت 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح 90 فیصد تک مزید افزودہ ہونے کی صورت میں ہتھیار بنانے کے قابل ہوسکتی ہے۔

تاہم ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کی بھی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان 20 ارب ڈالر کے نقد معاہدے پر غور ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر غلط ہے کسی قسم کا پیسہ منتقل نہیں ہو رہا۔