روشنی مجھ میں نہیں میرے کردار میں ہے

حدت فکر میں ہے، شعلہ گفتار میں ہے روشنی مجھ میں نہیں میرے کردار میں ہے


[email protected]

دہلی سے 30 میل دور دریائے جمنا اترپردیش (U.P) کو پنجاب سے علیحدہ کرتا ہے۔ پنجاب کے علاقے میں ضلع پلول میں ایک گاؤں حسن پور ہے، اس گاؤں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ حسن پور میں بیشتر خاندان رند بلوچوں کے تھے۔ بلوچ سردار چاکر خان کے ساتھ مغل بادشاہ ہمایوں کو دلی کا تخت دلوانے آئے تھے۔

مغلوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت دریائے جمنا کے کناروں کو آباد کیا۔ معروف صحافی اور انسانی حقوق کے روحِ رواں آئی اے رحمن جن کا اصلی نام اختر رحمن تھا حسن پور میں یکم ستمبر 1930ء کو پیدا ہوئے۔ رحمن صاحب 12 اپریل 2021ء کواس جانِ فانی سے کوچ کرگئے ۔آئی اے رحمن اپنے پیچھے آزادئ صحافت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کواپنے ورثہ میں چھوڑ گئے۔ اس تحریک کے وارث سماجی کارکن شرمندہ ہیں کہ آج انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی خراب ہے مگر رحمن صاحب جیسی کوئی شخصیت نہیں جو انسانوں کے حقوق کی سربلندی کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو مسمار کرنے کے لیے جدوجہد کو مشعل دکھا سکے۔

آئی اے رحمن نے ابتدائی تعلیم پلول کے ایک اسکول میں حاصل کی ، ان کے والد عبدالرحمن خان وکالت کرتے تھے۔ عبدالرحمن صاحب ایک قوم پرست تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت سے متاثر تھے۔ ان کے قریبی دوست مطلبی فرید آبادی ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی کے رکن تھے۔ شاید آئی اے رحمن کی شخصیت پر مطلبی فرید آبادی کی شخصیت کے اثرات پڑنے لگے تھے۔

آئی اے رحمن کو مزید تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھیج دیا گیا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں جو ان کا حلقہ تھا ان میں سے بیشتر نوجوان کارل مارکس کے نظریے سے متاثر تھے۔ رحمن صاحب 17 سال کی عمر میں علیگڑھ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔15 اگست 1947ء کوہندوستان کا بٹوارہ ہوگیا ۔ اس کے ساتھ بھارت اور پاکستان میں شدید نوعیت کے فسادات شروع ہوگئے۔ رحمن صاحب کا گاؤں حسن پور فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ بلوائیوں نے ان کے خاندان کے 150 کے قریب افراد کو شہید کردیا۔ شہید ہونے والوں میں ان کے تایا اور بہت سارے قریبی رشتے دار شامل تھے۔ آئی اے رحمن اور ان کے والد نے سارے خاندان والوں کی نگہبانی کی ۔آئی اے رحمن نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے فزکس میں ایم ایس سی کیا ۔

رحمن صاحب نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر غریبوں کے لیے لاہور کے پسماندہ علاقہ راج گڑھ کے غریب بچوں کے لیے ایک اسکول بنایا۔ وہ سپیریئر سروس آف پاکستان کے امتحان میں پاس ہوئے مگر مشرقی پنجاب کے مہاجرین کی نشست نہ ہونے کی بناء پر سرکاری افسر نہ بن سکے۔ رحمن صاحب ساری زندگی اس بات پر مسرت کا اظہار کرتے تھے کہ وہ بیوروکریٹ نہیں بنے، بعدازاں وہ ایک محکمہ میں سپروائزر ہوئے مگر رحمن صاحب کو اپنے آدرش کی پاسداری کے لیے سرکاری ملازمت رکاوٹ محسوس ہوتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سرکاری ملازمت کو خیرباد کہا اور ترقی پسند اخبار پاکستان ٹائمز میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرلی۔ آئی اے رحمن نے اس سے پہلے ایک اردو اخبار میں کچھ آرٹیکل تحریر کیے۔ اس وقت پاکستان ٹائمز کے مالک ترقی پسند سیاسی رہنما میاں افتخار الدین تھے۔ فیض احمد فیض، مظہر علی خان، چراغ حسن حسرت، حمید ہاشمی جیسے معروف کمیونسٹ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ امروز میں موجود تھے۔ ۔آئی اے رحمن، فیض احمد فیض کی شخصیت سے متاثر ہوئے اور ایک سچے مارکسی نظریہ کے علم بردار ہوگئے ،مگر آئی اے رحمن اس کے ساتھ پروفیشنل صحافی کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے اور صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس میں فعال ہوئے۔

 50ء کی دہائی میں پاکستان ٹائمز سے آئی اے رحمن ، روزنامہ امروز سے مسعود اشعر اور علی سفیان آفاقی فلمی رپورٹنگ کرتے تھے۔ آئی اے رحمن نے پی ایف یو جے کے علاوہ پی پی ایل ایمپلائز یونین میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ پی ایف یو جے نے 1970ء میں غیر صحافتی عملہ کو ویج بورڈ دینے اور عبوری امداد کے لیے 10 روزہ ہڑتال میں بھرپور حصہ لیا۔ ہڑتال کے خاتمے پر آئی اے رحمن اور 100 کے قریب صحافیوں کو ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا۔ رحمن صاحب، حمید اختر اور عبداﷲ ملک نے اردو کا ایک اخبار لاہورسے روزنامہ ’’آزاد‘‘ جاری کیا۔ اس اخبار میں 1970ء میں مشرقی پاکستان میں آنے والے تباہ کن طوفان کی جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے تھے تفصیلی رپورٹنگ کی۔ روزنامہ آزاد نے مارچ 1971ء کے مشرقی پاکستان میں ہونے والے آپریشن کی مخالفت کی جس کی بناء پر یہ اخبار عتاب کا شکار ہوگیا۔

پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں آئی اے رحمن نے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے رسالہ ’’سینما‘‘ کی ادارت کی۔ ’’سینما‘‘ انگریزی میں پاکستان کا پہلا بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والا فلمی رسالہ تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں آئی اے رحمن کے لیے روزگار کے دروازے بند کردیے گئے۔ انھوں نے مظہر علی خان کی زیرِ ادارت شائع ہونے والے انگریزی کے ہفت روزہ رسالہ View Point میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ ویو پوائنٹ کے عملی ایڈیٹر تھے۔

جنرل ضیاء الحق نے 80ء کی دہائی میں اخبارات پر سنسرشپ عائد کردی۔ رحمن صاحب نے سنسرشپ کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے آرٹیکلز اور اداریوں میں بین السطور لکھنے کا ایک نیا انداز اپنایا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ناکردہ گناہوں پر سزا دینے کے لیے آئی اے رحمن کو 6ماہ تک کوٹ لکھپت جیل اور بہاولپور جیل میں مقید رکھا۔ رحمن صاحب انسانی حقوق کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم Human Rights Commission (H.R.C.P)کے بانیوں میں تھے۔

انھوں نے 1991ء میں اپنے ساتھیوں عزیر صدیقی، حسین نقی اور زمان خان وغیرہ کے ساتھ شمولیت اختیار کرلی تھی۔ رحمن صاحب نے اپنی ساری زندگی پسماندہ طبقات کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے وقف کی۔ آئی اے رحمن نے پاکستان میں نافذ ان قوانین کا بغور جائزہ لیا جو خواتین، اقلیتوں، مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کے حقوق پر قدغن لگاتے ہیں۔ ان کی نگرانی میں ایچ آر سی پی نے مظلوم طبقات کے خلاف نافذ قوانین کے بارے میں تحقیقی دستاویزات شائع کیے۔ ایچ آر سی پی نے ہر سال انسانی حقوق کی پامالی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کی صورتحال اور جمہوری اداروں کی کارکردگی کے بارے میں سالانہ رپورٹ شائع کرنا شروع کی۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ کو انتہائی اہمیت دیتی ہیں۔

اسی طرح جب بائنڈڈ لیبر کے مسئلے کو اجاگر کرنے ، بھٹہ مزدوروں کے حالات کار اور میڈیا کی صورتحال پر ان کی نگرانی میں سیمینار، کانفرنس اور ورکشاپ وغیرہ کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ رحمن صاحب کی نگرانی میں ملک کی تاریخ کا پہلی دفعہ Right to know ’’جاننے کے حق‘‘ کو اجاگر کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو آئی اے رحمن اور عاصمہ جہانگیر کو گھروں میں نظربند کردیا گیا۔ رحمن صاحب کی یہ رائے تھی کہ اس ملک میں اس وقت تک ترقی نہیں ہوسکتی اور جمہوری ادارے مستحکم نہیں ہوسکتے جب تک بھارت سے تعلقات معمول پر نہیں آتے۔انھوں نے پاکستان بھارت پیپلز فورم کو آرگنائز کیا۔ ان کی کوششوں سے بھارت اور پاکستان کی سول سوسائٹی کے بہت سے وفد دونوں ممالک میں گئے اور دوستی کی فضاء مستحکم ہوئی۔ دونوں ممالک نے ایک حد تک شہریوں پر ویزا کی پابندیاں نرم کردی تھیں مگر ممبئی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد امن کی اس تحریک کو نقصان پہنچا۔

 معروف کالم نگار ایوب ملک نے لکھا ہے کہ آئی اے رحمن نے پوری زندگی محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے لیے آواز بلند کی، وہ مضبوط مرکز کی بجائے مضبوط پاکستان کے حامی تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مضبوط پاکستان اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب یہاں بسنے والی قوموں کو ان کے حقوق دیے جائیں۔انھوں نے ہمیشہ مزدوروں اور کسانوں پر ہونے والے استحصال کو نہ صرف للکارا بلکہ اپنی تحریروں میں بھی اس استحصال کو بیان کیا۔ان کے مطابق پاکستان کے جاگیر دار، سرمایہ دار،سجادہ نشین اور ریاستی ادارے سماجی تبدیلی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ خالد علیگ کا یہ شعر آئی اے رحمان کی زندگی سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔

حدت فکر میں ہے، شعلہ گفتار میں ہے

روشنی مجھ میں نہیں میرے کردار میں ہے