پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کی بھارتی مذموم سازش ناکام ہو گئی جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کے چرچے ہونے لگے، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں کامیاب ثالثی کے ذریعے پاکستان نے خود کو امن کے ضامن کے طور پر منوا لیا۔
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی پاکستان کی ثالثی کو غیر معمولی حد تک مؤثر قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی کے مطابق ایران کو کسی اور ملک پر اتنا اعتماد نہیں جس کی وجہ سے ثالثی کے لیے پاکستان ہی واحد قابلِ اعتماد راستہ ہے۔
سنگاپور کے نشریاتی ادارے چینل نیوز ایشیا نے پاکستان کی بڑھتی اہمیت کو بھارت کے لیے ویک اپ کال قرار دیتے ہوئے بھارتی میڈیا کے شدت پسند اور قوم پرست پروپیگنڈے کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا۔
معروف تجزیہ کار ڈاکٹر اپرنا پانڈے کے مطابق پاکستان دہائیوں سے اپنی جغرافیائی اہمیت کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں استعمال کرتا آ رہا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال میں پاکستان کی پذیرائی کے باوجود بھارت کا زہریلا بیانیہ اس کی انتہا پسند سوچ کو ظاہر کرتا ہے اور مودی خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل کر اس کے منفی اثرات سے خود بھی نہیں بچ سکتا۔