اسرائیل اور ایران جنگ میں جہاں محاذوں پر صورت حال کشیدہ ہے وہیں دونوں ممالک کے اندر بھی ایک دوسرے کے جاسوس سرگرم ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں گزشتہ دو روز میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس شواہد ملنے پر عدالت میں اسرائیلی ایئر فورس کے دو ٹیکنیشنز پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات پر فرد جرم عائد کردی گئی۔
فوجی استغاثہ کی جانب سے دائر فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ دونوں اہلکار تل نوف ایئربیس پر تعینات تھے اور کئی ماہ تک ایرانی انٹیلی جنس عناصر سے رابطے میں تھے۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اہلکار پر جنگ کے دوران دشمن کی مدد، دشمن کو معلومات فراہم کرنے اور غیر ملکی ایجنٹ سے رابطہ رکھنے جیسے سنگین جرائم عائد کیے گئے ہیں۔
ان میں سے ایک پر لڑاکا طیاروں سے متعلق حساس معلومات چرانے کا بھی الزام ہے جبکہ دوسرے اہلکار پر بھی دشمن سے رابطہ اور معلومات فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔
اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کے بقول انھوں نے اس وقت رابطہ ختم کر دیا تھا جب انہیں ہتھیاروں سے متعلق کام کرنے کو کہا گیا تاہم اس کے باوجود وہ مالی فائدے کے لیے دوبارہ رابطہ بحال کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
فردِ جرم کے مطابق ایک ملزم نے ایرانی ایجنٹ کو اپنے فوجی تربیتی مواد، لڑاکا طیاروں کے نظام سے متعلق معلومات اور فوجی اڈے کے اندرونی حصوں کی دستاویزات بھی فراہم کیں۔
حکام کے مطابق اس کیس کی تحقیقات اسرائیل کی فوجی پولیس اور شِن بیت نے مشترکہ طور پر کیں۔
بیان میں شہریوں اور فوجیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ دشمن ممالک کے عناصر سے کسی بھی قسم کا رابطہ رکھنا یا مالی فائدے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنا سنگین جرم ہے۔